+(92)305 9265985 +(92) 0300 8040571
books4buy info@books4buy.com

Blog Post

آخر کب ہم سدھریں گے؟کالم نگار نوید اسلم


آخر کب ہم سدھریں گے؟کب
پہلا پہلو ہم انسان ہیں اور انسانوں کو خالق نے ایک دوسرے کی مدد کیلئے تخلیق کیا ہے اور یہ دنیا عالم اسباب ہے ۔ اس دنیا کی بنیاد ہی اختلاف عمل اور اسباب پر قائم ہے۔ جس کی ہمیں ایک خوبصورت مثال کچھ یوں اس روایت میں ملتی ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں تشریف لائے گئے اور اس دنیا پر آنے کے بعد ایک مخصوص مسجد ہے جس کے مینار پر وہ اُتریں گے اور اُترنے کے بعد اُن کے سارے حواری اکٹھے ہوجائے گئے اور وہ اکٹھے ہوکر ان کا استقبال کریں گے اور اُنہیں کہیں گے کہ بڑی بات ہے کہ آپ اللہ کے برگذیدہ پیغمبر، نبیؑ آگئے ہیں اور پھر عیسیؑ مسجد کے مینار پر کھڑے ہوکر آواز لگائے گئے کہ سیڑھی کا بندوبست کرو تو وہ سب کہیں گئے کہ یا عیسیؑ آپ آسمان سے اس مینار پر تو آگئے تو آپ نیچے ہی آجاتے، آپ سیڑھی کیوں مانگ رہے ہیں تو وہ کہیں گئے کہ دیکھو میں عالم اسباب میں آگیا ہوں اور اس عالم اسباب میں سیڑھی مانگنی پڑتی ہے۔ اس لیے خدا نے مخلوق کی فلاح و کامیابی کیلئے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر و نبیؑ اور مقدس کتابیں بھیجی ہیں تاکہ انسانوں کو زندگی گزارنے کے بہتر طریقے سیکھائے جاسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور مردوزن سے اس کائنات کی تخلیق مکمل کی۔ پھر ان میں ہمدردی کے جذبے کو اجاگر کیا جس سے یہ ایک دوسرے کی خوشی و غم میں شریک ہوکر اپنے دوست احباب سے احساسات فرماتے ہیں۔ کیونکہ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں اور غم بانٹنے سے کم ہوتے ہیں۔ جب انسان پریشان ہوتا ہے تو اس کے ہم نواں اس کی ہمت باندتے ہیں اور اسے مشکلات سے پیش آنے کاحوصلہ دیتے ہیں۔ بقول اشفاق احمد صاحب:۔ ’’وہ فرماتے ہیں کہ ہر پاکستانی کو ایک کندھے کی ضرورت ہے جس پر سر رکھ کر وہ روسکے اور اپنے دکھ کا اظہار کرسکے اس طرح اپنی تکلیف میں کمی کرکے زندگی جینے کی طرف دوبارہ رواں دواں ہوسکے۔ ‘‘یہ کندہ کسی استاد، دوست، پیر یا فقیر کا بھی ہوسکتا ہے۔ بعض اوقات انسان کو کوئی اچھا استاد یا دوست مل جاتا ہے جو اس کے غم میں اس کا ساتھی اور ہمدرد بن جاتا ہے ۔ پیری فقیری ایک تاریخی خیال ہے کہ لوگ اپنی مشکلاتِ زندگی سے تنگ آکر ، مایوس ہوکر اُمید کی تھوڑی سی کرن دیکھ کر ان پیروں ، فقیروں کے در پر جاتے تھے اور ان سے اپنے غم زندگی سے نجات حاصل کرنے کی درخواست کرتے تھے تاکہ ان کا غم کم ہوسکیں ۔ اگر انہیں کوئی داتا علی ہجویریؒ جیسا پیر مل جاتا تو وہ ان کیلئے دعائے خیر کردیتا اور ان کو راہِ خدا پر چلا دیتا اور خالق سے تعلق قائم رکھنے کی ترغیب دے دیتا۔

ہم اب دوسرا پہلو دیکھتے ہیں جیسے جیسے وقت گزرتا گیا انسان کا طرز زندگی بھی بدلتا گیا۔ انسان غار کی زندگی سے مکان تک پہنچ گیا۔ جسم کو ڈھانپنے کے لئے کپڑا بنا لیا۔ بیماریوں کے علاج کے لئے جڑی بوٹیوں سے ادویات نکالنے لگا۔ انسان تبدیلی کا خواہاں ہو گیا سالوں کا سفر مہینوں، مہینوں کا ہفتوں، ہفتوں کا دنوں ، دنوں کا گھنٹوں اور گھنٹوں کا منٹوں میں طے کرنے لگا۔ انسان جنگلی حیات سے شہری زندگی میں بدلنے لگا۔ بادلوں سے باتیں کرتی ہوئی عمارتیں تعمیر کرنے لگا۔ سمندر کی تہہ سے چاند تک کا سفر کر لیا۔ انسان اپنی زندگی کو پر سکون بنانے کے لئے ایک کے بعد ایک دریافت وایجاد کرتا گیا اور مراحل زندگی طے کرتا گیا۔ انسان نے کئی اقسام کے شعبوں کو تسلیم کر لیا۔ جیسے ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، سیاستدان و صحافت وغیرہ ہر انسان اپنی جبلت ، فطرت کے مطابق اپنا شعبہ، فیلڈ چننے لگا۔ دنیا میں تیرہ اقسام کی فیلڈز، شعبے پائے جاتے ہیں انہی میں سے ایک فیلڈ پبلک /موٹیو یشنل اسپیکر ، ٹرینر کی ہے۔ ان کے پیرو کاروں نے انہیں اپنی پسند کے مختلف نام دے رکھے ہیں جیسے مرشد، گُرو، پیر یا استاد وغیرہ۔ یہ لوگ /ٹرینر دوسروں کو کامیابی کا راز مشکلات سے پیش آنا، اچھے تعلقات قائم کرنا، مثالی گھرانہ بنانا، دوسروں کے لئے جذبہ ہمدردی جیسے گر سکھاتے ہیں ۔ یہ سکھاتے ہییں کہ اگر انسان انسان سے محبت و شفقت کرنے لگ جائے تو یہ دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی۔ یہ لوگ اپنے انداز گفتگو وتحریر سے دوسروں کو مائل کرتے ہیں۔ اِس وقت اِرک تھامس کا شمار دنیا کے پہلے دس ٹرینرز میں سے سر فہرست ہوتا ہے۔ اس کے بعد دوسرا نمبری ٹونی رابنز، تیسرا لیس براؤن، چوتھے پر جم راہن، پانچویں پر آرنلڈSchwarzenegger، چھٹا نمبر ذِ گ ذگلار کا ،ساتویں پر ڈاکٹر وینے ڈائر، رابن شرما آٹھویں پر، برائن ٹریسی نویں اورنک Vujicicکا شمار دسویں نمبر ہوتا ہے۔ اِرک تھامس کہتا ہے کہ ’’جب تم کامیابی کو ایسے چاہو گے جیسے زندہ رہنا چاہتے ہو تو تم کامیاب ہو جاؤ گے۔‘‘ یہ لوگ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کی زندگی بدل چکے ہیں۔ یہ لوگ دورِ جدید کے بابے ہیں۔ یہ لوگ امید بانٹتے ہیں کیونکہ انہیں اُمید بانٹنے کا فن آتا ہے۔ یہ لوگ مایوسی کو دور کرنا جانتے ہیں یہ لوگ قوم کو احساس ذمہ داری سے آشنا کرتے ہیں یہ لوگ گرے ہوئے، ہارے ہوئے افراد کو دوبارہ اُٹھ کھڑا ہونے کا مقابلہ کرنے کا جذبہ دیتے ہیں۔ یہ لوگ معمارِ ملت ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ قوموں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ لوگ محسن ہوتے ہیں۔ یہ اصل محسن ہوتے ہیں۔
کالم نگار: نوید اسلم
E-mail: naveedaslam843@gmail.com
اسلامک ، تصوف، تفسیر، فقہ ، تاریخ نیز ہر موضوع کی کتب کی رسائی اب آپ کی پہنچ میں آپ صرف کتاب کا نام ، مصنف کا نام، اپنا نام پتہ موبائل نمبر لکھ کرہمیں وٹس اپ یا ان باکس کریں۔ اور کیش آن ڈلیوری کتاب حاصل کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
92 0305 9265985

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

The Greatest Prophets In Islam And Their Missions

The Greatest Prophets In Islam And Their Missions First of all thanks for landing this