+(92)305 9265985 +(92) 0300 8040571
books4buy info@books4buy.com

Blog Post

افسانہ میم-زندگی کے بعد موت سے پہلے شکیل احمد چوہان


زندگی کے بعد ۔ موت سے پہلے
افسانہ میم
مزمل کھانے سے فارغ ہوا تو اس نے اپنی رولکس کی گھڑی میں ٹائم دیکھا تین بجنے والے تھے۔
واپسی کب تک ہے؟ مزمل نے مبشر کے کان میں سرگوشی کے انداز میں پوچھا۔
’’مغرب ہو ہی جائے گی۔‘‘ مبشر نے اُسی انداز میں بتایا۔
’’OK… میں نماز کے لیے جا رہا ہوں۔ جب جانا ہو تو مجھے کال کر لینا۔‘‘ مزمل نے یہ کہا اور شادی ہال سے باہر نکل آیا۔ باہر آ کر اُس نے ارد گرد کا جائزہ لیا۔ جی ٹی روڈ کی دوسری جانب اُسے مین سڑک سے اندر جاتی ہوئی ایک چھوٹی سڑک پر ایک چھوٹی سی مسجد نظر آ گئی تھی۔ مزمل نے اپنی وائٹ مرسڈیز کی طرف دیکھا جو کہ دُلہن سے زیادہ سجی ہوئی تھی۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد مزمل نے پیدل جی ٹی روڈ کراس کیا اور سڑک کی دوسری طرف پہنچ گیا۔
سڑک کی دوسری طرف مین جی ٹی روڈ پر صرف سرامک کی بند پڑی فیکٹری اور میم گرلز ہائی اسکول تھا۔ فیکٹری اور اسکول کے درمیان جی ٹی روڈ سے ایک چھوٹی سڑک معراج کے گاؤں تک جاتی تھی۔ اُسی سڑک پر فیکٹری کی مسجد تھی جس کا ایک دروازہ فیکٹری کے احاطے میں کُھلتا اور دوسرا چھوٹی سڑک کی طرف تھا۔ مسجد کے دروازے کے سامنے اسکول کے پیچھے ایک مخروطی چھتوں والا دو منزلہ مکان بھی تھا جس کی کھڑکیاں پرانی طرز کی تھیں۔ لوہے کی سلاخوں کے پیچھے لکڑی کے تختے۔ مسجد کے دروازے کے ساتھ مسلم دواخانہ اُس کے باجو میں حکیم مسلم انصاری کا گھر۔ فیکٹری کے پیچھے آٹھ دس گھر اور بھی تھے۔ اس کے برعکس جس طرف ملن شادی ہال تھا اُس طرف کافی رونق تھی۔ شادی ہال کے اردگرد بہت ساری دُکانیں تھیں۔
’’تم یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘ مناہل نے شادی ہال کے باہر کھڑی ماہم کو پیچھے سے جھنجھوڑ کر پوچھا۔
’’اندر دودھ پلائی کی رسم ہونے والی ہے، مسرت کی امی مجھ سے بار بار پوچھ رہی ہیں ماہم کہاں ہے اُسے ڈھونڈ کر لاؤ، چلو میرے ساتھ…!‘‘ مناہل نے حکمیہ انداز میں کہا۔ اُس نے ماہم کو ہتھیلی سے پکڑا اور ہال کے اندر لے گئی، ماہم نے مڑ کر پیچھے کی طرف دیکھا وہ مسجد میں داخل ہو رہا تھا۔
مزمل نے ظہر کی نماز ادا کی اور مسجد کو دیکھنے لگا بڑے غور سے جس کا محراب لکڑی کا بنا ہوا تھا۔ مزمل نے دوسری بار محراب کے اندر لکڑی کا اتنا عمدہ کام دیکھا تھا۔محراب کی طرح ہی منبر بھی اُتنا ہی خوب صورت۔ سوا تین کا وقت تھا جب مزمل نے مسجد کے کلاک پر نظر ڈالی۔ پونے چار بچے عصر کی جماعت، اُسی ڈیجیٹل کلاک کے نیچے جماعت کے اوقات بھی درج تھے۔
مزمل بیگ نے قرآن پاک الماری سے اُٹھایا اور تلاوت شروع کر دی۔ ساڑھے تین بجے کے قریب ایک نصف صدی باریش شخص مسجد کے اندر داخل ہوا۔ اُس نے اسپیکر کھول کر اذان دی۔ مزمل نے قرآن پاک الماری میں رکھا اور اذان کا جواب دینے لگا۔

’’پوری بارات میں سے آپ اکیلے ہی نماز پڑھنے آئے ہو؟‘‘ مؤذن نے اذان ختم کرنے اور دُعا مانگنے کے بعد مزمل سے پوچھا۔
’’آپ تو وہی ہیں نا جنھوں نے نکاح پڑھایا تھا؟‘‘ مزمل نے سوال کا جواب دینے کی بجائے اپنا سوال پوچھ لیا۔
’’جی جناب…! میں وہی ہوں۔ میرا نام حکیم مسلم انصاری ہے۔ لوگ حکیم صاحب کہتے ہیں۔ مسلم انصاری کوئی نہیں کہتا۔‘‘
’’ادب کی وجہ سے آپ کا نام نہیں لیتے ہوں گے۔‘‘ مزمل نے بے تاثر چہرے کے ساتھ اپنا نقطہ بیان کیا۔
’’میرا نام مزمل بیگ ہے اور میں…‘‘
’’آپ مبشر کے سیٹھ ہیں۔ مبشر آپ کا ڈرائیور ہے اور آپ لاہور سے آئے ہیں۔ میں نے ٹھیک بتایا نا؟‘‘ حکیم صاحب نے مسکراتے ہوئے تفصیل بتائی۔
’’حکیم صاحب…! جماعت کا وقت ہو گیا ہے۔‘‘ مہتاب خان نے اقامت کے لیے کھڑے ہوتے ہوئے اطلاع دی۔ تین افراد نے باجماعت نماز ادا کی تھی۔ مہتاب خان نے دُعا مانگی اور مسجد سے چلا گیا۔ مزمل اور حکیم صاحب نماز کے بعدکچھ دیر باتیں کرتے رہے پھر مزمل نے اپنا موبائل دیکھا جس پر دو مس کالز آئی ہوئی تھیں۔ مزمل نے مسجد کی سیڑھیاں اُترتے ہوئے مبشر کو کال بیک کی، اچانک اُس کی نظر مسجد کے سامنے والے گھر کی دوسری منزل پر پڑی۔ ایک لڑکی کھڑکی میں کھڑی ہوئی مزمل کو ہی دیکھ رہی تھی۔ جب مزمل کی نظر اُس لڑکی پر پڑی تو وہ پیچھے ہٹ گئی۔
’’سر جی…! کہاں ہیں آپ؟ جلدی سے آجائیں۔‘‘ مبشر موبائل کی دوسری طرف سے التجا کر رہا تھا۔
’’یہ ماہم کہاں مر گئی ہے؟‘‘ مناہل اپنی اور ماہم کی سہیلیوں سے پوچھ رہی تھی۔
’’کمینیو…!دودھ پلائی کی طرح پانچ ہزار پر ہی ایگری مت ہو جانا۔ دِس ٹائم بیس ہزار سے کم نہیں لیں گے۔‘‘ مناہل نے اپنی سہیلیوں کو سمجھایا۔ مناہل اور اس کی سہیلیوں نے مبشر کا گھٹنا ایک چنری سے باندھ دیا تھا۔ مبشر اپنے سر جی کو بڑا بنا کر لایا تھا گو کہ مزمل بیگ اور مبشر علی ہم عمر ہی تھے پھر بھی مبشر نے اپنے رشتے داروں کی بجائے مزمل بیگ پر ذمے داری کی پگڑی رکھی تھی۔
مزمل بیگ جو کہ ڈرائی فروٹ کی طرح تھا۔ توانائی سے بھرپور مگر خشک، توانائی اُس کے جذبوں اور اس کی سوچ میں تھی اور خشکی اُس کے مزاج کا حصہ۔ وہ بداخلاق نہیں لیکن کوئی ایسا خوش اخلاق بھی نہیں تھا۔ ایک اتنا بڑا بزنس مین اپنے ڈرائیور کی بارات کے ساتھ آیا تھا وہ بھی خود اُس کا ڈرائیور بن کر۔ مزمل بیگ من موجی تھا پہلے تو اُس نے صاف انکار کر دیا تھا۔
’’سر جی…! پلیز چلیں، میری کون سی روز روز شادی ہونی ہے؟‘‘ مبشر کی عرضی میں پتا نہیں کون سی بات تھی جو مزمل بیگ نے ہاں کر دی تھی۔ اب مزمل خود سے کہہ رہا تھا:
’’میں بھی ایڈیٹ ہوں جو یہاں آگیا۔‘‘
مزمل کافی دیر دُور کھڑا مبشر اور دُلہن کی سہیلیوں کی بحث و تکرار دیکھتا رہا۔ وہ مبشر کی آواز پر چونکا۔
’’سر جی…! میری جان چھڑائیں اِن چڑیلوں سے۔‘‘
مزمل وقار سے چلتا ہوا مبشر کے پاس گیا۔
’’پہلے ان چڑیلوں نے دودھ پلائی کے مجھ سے پانچ ہزار لے لیے اب میرا گھٹنا باندھ کر پورے بیس ہزار مانگ رہی ہیں۔‘‘ مبشر ایسے بول رہا تھا جیسے کم زور بچہ اپنے سے تگڑے بچوں کی شکایت اپنے ماں باپ کو کرتا ہے۔
’’جیجا جی…! پورے بیس ہزار دینے پڑیں گے۔‘‘ ایک کالی کلوٹی لڑکی نے مناہل کا سبق باآواز بلند دُہرایا تھا۔
مزمل نے اُس لڑکی کی طرف دیکھا اُس کا انداز بڑا عجیب سا تھا جیسے جگا ٹیکس مانگ رہی ہو۔ مزمل کے چہرے پر ایک میٹھی مسکراہٹ اُبھری۔ سب کے زور زور سے ہنسنے کی آواز اُس کے کانوں میں پڑی۔ اُس نے اُس کالی کلوٹی کے چہرے سے نظر ہٹا کر سب چہروں کی طرف باری باری دیکھا سب پاگلوں کی طرح ہنس رہے تھے۔
’’یہ بھی کوئی ہنسنے والی بات ہے؟‘‘ مزمل کے دل میں خیال آیا۔ ہنستے ہوئے چہروں کے درمیان ایک سنجیدہ چہرہ بھی تھا جو مزمل کو ہی دیکھ رہا تھا۔ مزمل اُس کا چہرہ نہیں دیکھ پا رہا تھا مگر اُس کی بلّی کی طرح جلتی آنکھیں اُسے نظر آرہی تھیں جو گُھپ اندھیرے میں دُور سے دیکھو تو انگاروں کی طرح دہکتی ہوئی لگتی ہیں۔
’’میں پانچ ہزار سے ایک ٹیڈی بھی زیادہ نہیں دوں گا۔‘‘ مبشر بول رہا تھا دُلہن کی سہیلیوں میں پھنسا ہوا۔
’’پندرہ… آخر…‘‘ مناہل نے انداز سے کہا۔
’’دس…!‘‘ مزمل نے سنجیدگی سے آفر دی۔
’’ڈن…!‘‘ مناہل نے مہندی لگی ہتھیلی آگے بڑھا دی۔ مزمل نے ہزار ہزار کے دس کڑکتے نوٹ اُس کی ہتھیلی پر رکھے۔ مناہل نے نوٹ پکڑتے ہوئے مزمل کے ہاتھ پر سوئی چبو دی۔ مزمل کو کرنٹ سا جھٹکا لگا۔ اُس نے جلدی سے ہاتھ پیچھے ہٹایا۔ مزمل نے غصے سے مناہل کی طرف دیکھا تھا۔
رخصتی کے وقت دُلہن کی ساری سہیلیاں ایک بار پھر دُلہے کے سامنے آکر کھڑی ہو گئیں تھیں۔ جب وہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھنے لگا۔
’’رستہ روکنے کی رسم تو بارات آنے کے وقت ہوتی ہے۔‘‘ مبشر کی بہن منیبہ نے کہا۔
’’اُس وقت ہم بھول گئے تھے۔‘‘وہ کالی کلوٹی پھر بولی اپنے مخصوص انداز کے ساتھ۔
’’آپ سب ادھر آئیں۔‘‘ مزمل نے سب لڑکیوں سے کہا تھا۔ پچھلی سیٹ پر دُلہن کے ایک طرف مبشر اور دوسری طرف مبشر کی ماں بیٹھ گئی، اگلی سیٹ پر مبشر کی چھوٹی بہن منیبہ بیٹھی، جو دسویں میں پڑھتی تھی۔ اب دلہن کی سب سہیلیوں نے مزمل کو گھیرے ہوا تھا جو کہ پیسوں کا مطالبہ کر رہی تھیں۔
’’تم میں سے کل ولیمے میں کون کون آرہی ہے؟‘‘ آدھے ہاتھ کھڑے ہوئے۔
’’کل ولیمے پر میرا دوست حمزہ علی عباسی بھی آرہا ہے۔ تم میں سے کون کون اُس سے ملنا چاہتی ہے؟‘‘
کسی نے بھی گرم جوشی نہیں دکھائی۔
’’تم میں سے کسی نے بھی پیارے افضل ڈرامہ نہیں دیکھا؟‘‘ مزمل بیگ حیران تھا۔
’’پیارے افضل۔‘‘ ’’پیارے افضل۔‘‘ چند دبی دبی آوازیں نکلیں۔
’’حمزہ علی عباسی، مطلب ’’پیارے افضل‘‘ وہ میرا دوست ہے۔‘‘ مزمل نے سنجیدگی سے بتایا۔
’’مسٹر مزمل بیگ…! آپ ہنستے تو بالکل بھی نہیں وہ الگ بات ہے۔ آپ مسکرا کر بھی بتا سکتے تھے کہ پیارے افضل آپ کا دوست۔‘‘
’’ہنسنے کی ڈیوٹی معراج والوں کے ذمے ہے۔‘‘ مزمل نے سنجیدگی سے بات لگائی۔
’’مس مناہل…! کچھ غم ہونٹوں سے مسکراہٹ چھین لیتے ہیں۔‘‘
’’مسٹر مزمل…! اگر میں کہوں جو غم آپ کو ہے وہی مجھے بھی ہے، مگر میں پھر بھی ہنستی ہوں۔‘‘ مناہل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’مزمل بھائی…! چلیں بھی… ساری گاڑیاں نکل گئی ہیں۔‘‘ منیبہ کو جانے کی جلدی تھی۔
’’پیارے افضل سچ میں آپ کا دوست ہے؟‘‘ کالی کلوٹی نے تصدیق چاہی۔
’’جھوٹ… یہ مذاق کر رہے ہیں۔‘‘ مناہل نے اپنی سہیلیوں کو بتایا۔
’’سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کل ہو جائے گا، تم سب بتاؤ پیسے لینے ہیں یا پھر پیارے افضل سے ملنا ہے؟‘‘
سب نے یک زبان ہو کر کہا:
’’پیارے افضل سے ملنا ہے۔‘‘
مزمل گاڑی میں بیٹھنے لگا تو اُسے سیڑھیوں سے اوپر ہال کے داخلی دروازے سے آگے وہ بلّی آنکھیں دوبارہ نظر آئیں جو مزمل کو ہی دیکھ رہی تھیں۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔بقیہ پڑھیے کے لئے افسانہ میم کی قسط نمبر 2 میں۔۔
اگر آپ یہ کتاب خریدنا چاہتے ہیں تو دیئے گئے نمبر پر مسیج وٹس اپ یا کال کریں
03059265985
books4buy.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

افسانہ میم-پارٹ 2 زندگی کے بعد موت سے پہلے

پیارے افضل سے ملنا ہے۔ مزمل گاڑی میں بیٹھنے لگا تو اُسے سیڑھیوں سے اوپر