+(92)305 9265985 +(92) 0300 8040571
books4buy info@books4buy.com

Blog Post

افسانہ میم-پارٹ 2 زندگی کے بعد موت سے پہلے


پیارے افضل سے ملنا ہے۔
مزمل گاڑی میں بیٹھنے لگا تو اُسے سیڑھیوں سے اوپر ہال کے داخلی دروازے سے آگے وہ بلّی آنکھیں دوبارہ نظر آئیں جو مزمل کو ہی دیکھ رہی تھیں۔
بھائی…! پیارے افضل واقعی آپ کا دوست ہے؟ منیبہ نے بھی اشتیاق سے پوچھا۔

نہیں گڑیا…! وہ تو میں نے مذاق کیا تھا نہیں تو تمھارے بھائی کے دس ہزار اور چلے جاتے۔‘‘ مزمل نے گاڑی ڈرائیور کرتے ہوئے منیبہ کی طرف دیکھ کر جواب دیا۔
وہ اپنے ٹیرس پر کھڑا لان میں لگے سمبل اور سندری کے اونچے درختوں کو دیکھ رہا تھا جہاں اُسے وہ بلّی آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ وہ ٹیرس سے کمرے کے اندر آیا۔ فریج سے پائن ایپل کے جوس کی بوتل نکالی اور منہ لگا کر پینے لگا۔ بستر پر لیٹ کر اُسے سیلنگ کے اوپر بھی اُسے اُس لڑکی کی آنکھیں ہی نظر آرہی تھیں۔ ولیمے میں نہ آنے کی اطلاع اُس نے گوجرانوالہ سے واپسی پر ہی مبشر کو دے دی تھی۔
وہ ڈیفنس روڈ پر واقع اپنی فیکٹری سے دو بجے نکل آیا، نہ چاہتے ہوئے بھی اُس نے اپنی گاڑی موٹروے پر ڈال دی تھی۔ کالا شاہ کاکو کے مقام سے وہ موٹروے سے جی ٹی روڈ پر آگیا، مریدکے سے گزرتے ہوئے وہ کامونکی کے پاس تھا۔ بیک ویو میرر میں اُس نے جب بھی دیکھا وہی آنکھیں اُسے دیکھ رہی تھیں۔ مزمل کو پتا ہی نہ چلا کب اُس نے گوجرانوالہ شہر سے چند کلومیٹر دور مین جی ٹی روڈ کے اوپر سرامک کی بند پڑی فیکٹری کی دیوار کے ساتھ اپنی بلیک لینڈ کروزر کھڑی کی اپنی گھڑی پر ٹائم دیکھا ساڑھے تین بجنے والے تھے۔ اسپیکر پر حکیم صاحب کی آواز بلند ہوئی عصر کی اذان ہو رہی تھی۔ مزمل گردن جھکائے مسجد کے اندر داخل ہو گیا۔
مزمل بیگ صاحب…! حکیم صاحب نے مزمل کو دیکھ کر حیرت سے کہا۔ مزمل کے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ اُبھری۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد مزمل سب سے آخر میں مسجد سے نکلا۔ اُس نے نظر اُٹھائی۔ لوہے کی سلاخوں کے پیچھے لکڑی کے تختوں والی کھڑکی بند تھی۔ مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد بھی نظر کو مایوسی ملی۔ عشاء کے بعد بھی انتظار ہی ملا۔
فجر کی نماز حکیم صاحب نے پڑھائی، پانچ مقتدیوں میں سے پانچواں مزمل تھا۔ حکیم صاحب اور مہتاب خان اُس مسجد کے پکے نمازی تھے۔ فجر اور مغرب کی نمازوں میں دو چار لوگوں کا اضافہ ہو جاتا،حکیم صاحب کو کچھ تشویش ہوئی مزمل کو دیکھ مگر انھوں نے مزمل سے کچھ پوچھا نہیں۔
سارے نمازی جا چکے تھے۔ حکیم صاحب اور مزمل مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ مزمل نے حکیم صاحب کو سلام کیا اور مسجد سے نکلتے ہوئے نگاہ اُٹھائی وہ پہلے سے کھڑکی کھولے کھڑی تھی۔ مزمل کی بھی آنکھوں میں نور اُتر آیا، وہ گردن جھکائے اپنی گاڑی میں بیٹھا اور لاہور واپس چلا گیا۔
پھر مزمل کا یہ معمول بن گیا۔ وہ سارا دن اپنے کام کرتا۔ رات کو جلدی سو جاتا۔ رات کے دوسرے پہر اُٹھتا اپنی گاڑی نکالتا اور گوجرانوالہ روانہ ہو جاتا۔ فجر کی نماز پڑھتا سب نمازیوں کے جانے کے بعد مسجد سے نکلتا وہ کھڑکی میں نور بانٹنے کے لیے کھڑی ہوتی۔ مزمل آنکھوں سے آنکھوں میں نور اُتارتا پھر گردن جھکا کر واپس لاہور چلا جاتا۔
تین ماہ کا عرصہ گزر گیا۔ حکیم صاحب کو سب کچھ پتا چل گیا تھا۔ علاقے کے لوگوں کی تشویش بڑھ گئی۔ ایک دن علاقے کے لوگوں کو پتا چلا سیٹھ مجیب کی بند پڑی فیکٹری مزمل بیگ نے خرید لی ہے۔ اعتراض ہونے کی بجائے عرضیاں ہونے لگیں۔ مزمل نے بند پڑی فیکٹری میں دوبارہ کام شروع کروا دیا۔ علاقے کے نوجوانوں کو روزگار مل گیا۔ مزمل کی علاقے میں لوگ عزت کرنے لگے۔ عزت کیوں نہ کرتے وہ اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔
ایک سال گزر گیا۔ مزمل نماز پڑھ کر نکلتا وہ دیکھتی اور مزمل گردن جھکا کر چلا جاتا۔ ایک بھی ناغہ نہ تھا دونوں اطراف سے۔ ایک دن حسبِ معمول سب نمازیوں کے جانے کے بعد مزمل اُٹھا تو حکیم صاحب نے اُسے روک لیا۔
بیگ صاحب…! بیٹھ جائیں۔ حکیم صاحب نے شفقت سے کہا۔
آج آپ کو کھڑکی بند ملے گی۔‘‘ مزمل نے نظریں اُٹھا کر حکیم صاحب کی طرف دیکھا ۔ اُس کی نگاہوں میں کئی سوال تھے مگر وہ خاموش رہا۔ اُس نے دل میں سوچا:
حکیم صاحب کو کس نے بتایا؟
بیگ صاحب…! عشق اور مشک نہیں چھپتے…! حکیم صاحب نے مزمل کے چہرے پر بکھری حیرت کو ختم کیا۔
ماہم بیٹی کا کل رات کو اپینڈس کا آپریشن ہوا تھا۔ وہ اس وقت ہسپتال میں ہے۔
مزمل کے چہرے پر حیرت کی جگہ پریشانی آبیٹھی۔
وہ اب بالکل ٹھیک ہے مزمل بیٹا…! تم فکر مت کرو۔ حکیم صاحب نے چہرے پر بیٹھی پریشانی اُٹھانے کی کوشش کی تھی۔
اُس کا آپریشن ہوا ہے؟‘‘ مزمل نے ہولے سے پھر پوچھا۔
مزمل بیٹا…! تم میرے ساتھ آؤ، یہاں مسجد میں بات کرنا غیرمناسب ہے۔‘‘
ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد حکیم صاحب نے خود ہی بات شروع کی
بیگ صاحب سے مزمل بیٹا اور آپ سے تم تک میں خود ہی آگیا ہوں۔ وجہ یہ ہے کہ تمھیں میری بات سمجھ آجائے۔ ماہم اپنے تایا کے بیٹے ماجد کی منگیتر ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک بے جوڑ رشتہ ہے۔ ماسٹرمحمود خود اس رشتے کے حق میں نہیں تھا اگر ماہم کا دادا یہ فیصلہ نہ سناتا تو یہ رشتہ کسی صورت نہیں ہو سکتا تھا۔ ماسٹر محمود اپنے باپ کا بہت ادب کرتا تھا۔ اس لیے اُس نے آمین کہہ دیا۔
یہی حال ماہم بیٹی کا بھی ہے۔ وہ اپنے باپ سے زیادہ اپنے باپ کا ادب کرتی ہے۔ ماجد ایک آوارہ اور بدچلن لڑکا ہے۔ ماسٹر محمود اور چوہدری مقصود کی مشترکہ زمین دو سو ایکڑ کے لگ بھگ ہے جس کا کرتا دھرتا ماجد ہی ہے۔
ماسٹر محمود اور چوہدری مقصود چند سال پہلے جہلم سے واپس آرہے تھے۔ کار کا ایکسیڈینٹ ہو گیا۔ ماسٹر محمود اور ڈرائیور اُسی جگہ دم توڑ گئے۔ چوہدری مقصود پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھا۔ اُس حادثے میں اُس کی دونوں ٹانگیں کٹ گئیں۔
ماجد اپنے گھر میں بڑا ہے ادھر ماہم سب سے بڑی ہے۔ ماہم پڑھے لکھے باپ کی بیٹی ہے۔ ماہم خود بھی ایم اے، ایم ایڈ ہے جب کہ ماجد میٹرک فیل…
مسجد کے سامنے جو اسکول ہے یہ ماہم نے اپنے باپ سے کہہ کر بنوایا۔ اُسے گاؤں کا ماحول پسند نہیں تھا اس لیے اپنا گھر بھی اسکول کے ساتھ ہی تعمیر کروا لیا۔ ایسے گھر عموماً پہاڑی علاقوں میں ہوتے ہیں مگر ماہم بیٹی کو ایسا گھر ہی پسند تھا۔
مہتاب خان پہلے سیٹھ مجیب کے پاس سیکورٹی گارڈ تھا۔ ماہم کے اسکول میں اُس کی بیٹیاں پڑھتی ہیں۔ فیکٹری بند ہونے کے بعد ماہم نے مہتاب خان کو اپنے پاس سیکورٹی گارڈ کی نوکری دے دی۔
دیکھو مزمل بیٹا…! میری بات کافی لمبی ہو گئی۔ تمھاری شادی کسی صورت میں بھی ماہم سے نہیں ہو سکتی ہے اس لیے تم کسی اور لڑکی سے شادی کر لو۔‘‘ حکیم صاحب نے ساری تفصیل بتانے کے بعد لگے ہاتھوں مزمل کو مشورہ بھی دے ڈالا۔
اُمید کو آگ لگانے سے اندھیرے ملتے ہیں۔ حکیم صاحب…! اُمید پانی کی طرح ہوتی ہے جو کبھی بھی رحمت کے بادلوں سے برس سکتی ہے۔ میں آپ کی محبت، آپ کے خلوص کی قدر کرتا ہوں۔ میں یہ ساری باتیں مبشر کی شادی کے دوسرے دن سے جانتا ہوں۔ آپ کو یاد ہو گاجس دن میں نے یہاں عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کی تھیں اُس دن سے…‘‘
اس بار حکیم صاحب ششدر تھے۔
بیٹا…! اگر میں تنگ نظر ہوتا تو شاید تمھاری عبادت کو ہی منافقت قرار دے دیتا۔ تم لاہور سے یہاں نماز پڑھنے آتے ہو یا اُسے دیکھنے؟‘‘ حکیم صاحب نے مزمل بیگ کے ماتھے کے اوپر پڑے محراب کو دیکھ کر سوال کیا۔
نماز تو میں فرض ہونے کے بعد سے پڑھ رہا ہوں۔ مجھ میں بے شمار بُرائیاں ہیں مگر نماز میں نے کبھی نہیں چھوڑی۔‘‘ مزمل بات کرتے کرتے خاموش ہو گیا۔ حکیم صاحب کو ابھی تک اپنے سوال کا جواب نہیں ملا تھا۔ وہ مزمل کے جھکے ہوئے چہرے کو دیکھ رہے تھے۔ کچھ دیر دونوں اطراف سے خاموشی رہی۔ مزمل کچھ کہنا چاہ رہا تھا آخر اُس نے کہہ دیا:

حکیم صاحب…! میں ایک سال کا تھا میرے ماں باپ میں طلاق ہو گئی، میرے باپ نے طلاق کے بعد دوسری شادی کر لی، میری ماں نے بھی بڑی مشکل سے عدت کے دن گزارے تھے۔ اگر میری نانی زندہ نہ ہوتیں تو شاید میری ماں عدت بھی پوری نہ کرتی۔ میری ماں کے سیکنڈ ہیسبینڈ کی صر ف ایک ہی شرط تھی کہ وہ مجھے اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے جو میری ماں نے خوشی خوشی مان لی۔ میری ماں فارن چلی گئی اپنے سیکنڈ ہیسبینڈ کے ساتھ اور میرا باپ اسلام آباد سیٹل ہو گیا اپنی سیکنڈ وائف کے ساتھ۔ میری نانی بہت مذہبی تھیں۔ انھوں نے میری تربیت کی۔ میری ماں اکلوتی تھی۔ نانا نے الگ سے کافی کچھ نانی کے نام کروایا تھا۔ وہ سب کچھ نانی نے میرے نام کر دیا تھا۔ دو سال پہلے نانی کی بھی ڈیتھ ہو گئی اب میں اکیلا رہتا ہوں۔‘‘
مزمل بیٹا…! یہ سب کچھ میں پہلے سے جانتا ہوں پھر بھی تمھاری کہانی سن کر افسوس ہوا مگر یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔‘‘ حکیم صاحب مزمل کی روداد سن کر بھی اپنا سوال نہیں بھولے۔
آپ یہ سب کچھ کیسے جانتے ہیں؟ مزمل نے حیرانی سے پوچھا۔
سب کچھ بتاؤں گا پہلے تم میرے سوال کا جواب دو۔
حکیم صاحب…! آپ نے کافی مشکل سوال پوچھ لیا ہے۔ جب میں لاہور سے نکلتا ہوں تو میں نے نماز کے خیال سے ہی مسجد کی طرف جاتا ہوں۔ اللہ دلوں کے حال جانتا ہے۔ جب میں مسجد کی سیڑھیاں چڑھتا ہوں تو مجھے کبھی اُس کا خیال نہیں آیا۔ ہاں…! اُترتے وقت میری نظر اُٹھ جاتی ہے۔ جس پر میرا اختیار نہیں ہوتا۔ میں روز خود سے عہد کرتا ہوں اور روز ہی توڑ دیتا ہوں۔میری نظر صرف چند سیکنڈ کے لیے اُٹھتی ہے آپ کو کیسے خبر ہو گئی کیا اور لوگوں کو بھی…؟‘‘ مزمل مسلسل حیران تھا حکیم صاحب اُس کے ماضی اور حال سے باخبر تھے۔
نہیں… نہیں… بیٹا…! میرے علاوہ کسی کو خبر نہیں۔ چھوٹے قصبوں، دیہاتوں میں نائی، دائی اور حکیم سے کم ہی باتیں چھپتی ہیں۔ دیہاتوں میں لوگ اب بھی اکٹھے بیٹھتے ہیں۔ یہاں سب کو سب کی خبر ہوتی ہے۔ میری دُکان پر سارا دن عورتیں ایک دوسری کی چغلیاں کرتی ہیں، خبریں سناتی ہیں۔ لاکھ دفعہ منع کیا مگر بے سود… مزمل بیٹا…! اچھی باتیں خوش بو کی طرح پھیلتی ہیں اور بُری باتیں بدبو کی طرح پھیلتی ہیں۔پھیلتی دونوں ہیں بیٹا…! بڑی بات کہنا آسان ہے عمل کرنا مشکل بلکہ بہت ہی مشکل۔ کیا کہا تھا تم نے؟ اُمید پانی کی طرح ہوتی ہے جو کبھی بھی رحمت کے بادلوں سے برس سکتی ہے۔ تمھارے منہ سے بڑی بات سن کر اچھا لگا۔ اب میری بھی ایک بات یاد رکھو…! آم اور عشق جل کر ہی پکتا ہے۔‘‘ حکیم صاحب نے تفصیل سے سمجھایا تھا جو کہ مزمل کے مزاج کے برعکس تھا اُس نے کچھ خفگی سے کہا:
حکیم صاحب…! نہ تو میں آپ کا مرید ہوں اور نہ ہی مریض۔ میں تو بزنس مین ہوں۔ یہ عشق وشق پر میرا تو یقین نہیں ہے۔ میرے پیرنٹس بھی ایک دوسرے سے عشق کرتے تھے۔ میں اُن دونوں کے عشق کی راکھ ہوں۔
اُمید کی بات کرتے ہو اور خود کو راکھ بھی کہتے ہو۔ بیٹا…! اگر کہنا ہی ہے تو راکھ کی بجائے خاک کہہ لو راکھ میں مایوسی ہے اور خاک میں عاجزی۔ عشق عاجزی کے راستے کا ہی مسافر ہے۔‘‘ اس بار حکیم صاحب نے قدرے شگفتگی سے سمجھایا۔
حکیم صاحب…! پتا نہیں کیوں اپنی نانی کے بعد میرا دل چاہ رہا ہے کہ آپ سے سب کچھ کہہ دوں جو میرے دل میں ہے۔‘‘ مزمل کو کچھ اپنائیت کا احساس ہوا تھا حکیم صاحب کی حلیمی کی وجہ سے۔ حکیم صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ امڈ آئی۔
تم کہہ سکتے ہو، میں تمھارا اپنا ہوں کوئی غیر نہیں۔ اسی لیے میں نے تمھیں بیگ صاحب کی بجائے بیٹا کہا تھا۔ تم سب کچھ کہہ دو میں سن رہا ہوں۔‘‘
مجھے نفرت ہے… شدید نفرت… اپنے پیرنٹس سے… وہ دونوں اپنی اپنی زندگیوں میں خوش ہیں۔ اگر میری نانی نہ ہوتی تو…..‘‘ مزمل کی آنکھیں سرخ اور اُس کی رگیں تن گئیں۔
اُن کے ہونے ناہونے سے نو پرافٹ… نو لوس…‘‘
حکیم صاحب نے مزمل کو ایک گلاس پانی دیا:
یہ پی لو مزمل بیٹا…!‘‘
مزمل نے غٹاغٹ پانی پی لیا۔
’’کتنے سیل فش تھے وہ دونوں۔‘‘

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔بقیہ پڑھیے کے لئے افسانہ میم کی قسط نمبر 3 میں۔۔
اگر آپ یہ کتاب خریدنا چاہتے ہیں تو دیئے گئے نمبر پر مسیج وٹس اپ یا کال کریں
03059265985
books4buy.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

افسانہ میم-زندگی کے بعد موت سے پہلے شکیل احمد چوہان

زندگی کے بعد ۔ موت سے پہلے افسانہ میم مزمل کھانے سے فارغ ہوا تو اس