+(92)305 9265985 +(92) 0300 8040571
books4buy info@books4buy.com

Blog Post

بابا بلھے شاہ ؒ کی اپنے مرشد سے محبت اور خاندان سے اختلاف


حضرت بابا بلھے شاہ (رحمتہ اللہ علیہ) کی ہمشیرگان اور دیگر اہل خانہ نے آپ کو حضرت شاہ عنایت قادری شطاری سے یوں والہانہ عقیدت رکھنے سے منع فرمایا مگر آپ کی مستی اور مرشد کے ساتھ والہانہ عقیدت میں کوئی فرق نہ آیا جس پر آپ کو اپنی ذات اور برادری کے لوگوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور بے شمار قسم کے طعنے برداشت کرنے پڑے۔
حضرت بابا بلھے شاہ خاندان اور برادری والوں کی دشمنی کو ذیل کے شعر میں یوں بیان فرماتے ہیں۔

عشق اساں نال کیی کیتی
لوک مریندے طعنے
متر پیارے دے کارن نی
میں لوک الاہمیں سہنی ہاں

ایک روز خاندان کے افراد بمعہ حضرت بابا بلھے شاہ ؒ ہمشیرگان اس معاملے کو ختم کرنے کے لئے حاضر ہوئے اور آپ کو طعنے دیئے کہ آپ سید زادے ہیں اور ایک آرائیں کے در پر بیٹھے ہیں۔ آپ اس واقعہ کو اپنی ذیل کی کافی میں یوں بیان فرماتے ہیں۔

بلھے نوں سمجھاون آئیاں بھیناں تے بھرجائیاں
آل نبی اولاد علی دی تو ں کیوں لیکاں لائیاں
من لے بلھیا ساڈا کہنا چھڈ دے پلہ رائیاں
جھہڑا سانوں سید آکھے دوزک ملن سزائیاں
جے توں لوڑیں باغ بہاراں طالب ہو جا رائیاں

حضرت بابا بلھے شاہ نے حضرت شاہ عنایت قادری شطاری کا دامن ایسا پکڑا کہ پھر کبھی اسے نہ چھوڑا۔ اس لئے آپ کے کلام میں بھی جا بجا مرشد حقیقی سے عشق اور ان کی تعریف و عقیدت میں لبریز بیان ملتے ہیں جن میں ہستی بھی ہے اور وجد بھی اور شکرانہ بھی ہے۔
اپنے نفس کی قوت کو آزمانا
حضرت بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ پیرو مرشد کی جانب سے ریاضت و مجاہدات کا حکم ملتے ہیں حکم کی تکمیل کے لئے لاہور سے جھنگ کی جانب روانہ ہوئے اور ایک بالکل غیر مانوس مقام جس کا پہلے آپ نے صرف نام سنا تھا اس کی جانب تن تنہا چل دئیے۔ حضرت شاہ عنایت قادری شطاری بھی اپنے مرید کی باطنی اور روحانی طاقتوں سے آگاہ ہونا چاہتے تھے لہذا فرمایا۔
سنو عبداللہ ! اپنے نفس کی قوت کو آزمانا کبھی بھوک اور پیاس سے کبھی تیز دھوپ اور کبھی سخت سردی سے یاد رکھنا صبر قناعت اور توکل تصوف کی عمدہ ترین عمارت کے ستون ہیں اگر ایک ستون بھی کمزور ہو تو عمارت منہدم ہو جائے گی۔ یاد رکھو! ہم سب بلا شبہ عالم اسباب میں سانس لے رہے ہیں اور مسبب الاسباب اللہ عزوجل ہی کی ذات پاک ہے۔ غیر کی گلیوں میں زندہ رہنے سے کوچہ یار میں مرنا بہتر ہے۔ جائو میری دعا تمہارے ساتھ ہے کہ اللہ عزوجل تمہاری منزل شوق آسان فرمائے۔
دریا چناب کے کنارے ڈیرا لگانا
حضرت بابا بلھے شاہ نے مرشد پاک کی نصیحتوں کی ذہن نشین کیا اور لاہور سے جھنگ کی جانب عازم سفر ہوئے۔ قلب میں خیال پیدا ہوا کہ مال و زر پاس نہیں وہاں جا کر رہائش کا انتظام کیسے ہو گا اور کھانے کا کیا بندو بست کیا جائے گا؟ آپ نے ان فاسد خیالات کو مرشد پاک کی نصیحتوں کی روشنی یں جھٹلا دیا اور وفور شوق سے اپنا سفر جاری رکھا۔
جب آپ جھنگ پہنچے تو دریا چناب کے کنارے ایک خستہ خال جھونپٹری بنا کر اس میں سکونت اختیار کی۔ جھونپٹری کے لئے لکڑیاں درختوں کی شاخوں سے حاصل کیں اور پردے کے لئے بوسیدہ کپڑے کے چٹائیوں اور ٹاٹ کے پرانے ٹکڑے حاصل ہو گئے۔
آپ نے اس مقام پر حسب الارشاد مرشد پاک کئی برس تک عبادات میں مصروف رہے۔ آپ اس خطے میں مقیم تھے جہاں پر تمام موسم پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہوتے تھے۔ جب شدید بارشیں ہوتیں تو جھونپڑی تباہ ہو جاتی۔ لو کے تھپیڑے چلتے تو گرمی بے حال کر دیتی۔ یخ بستہ ہوائیں چلتی تو شدید سردی بدن پر کپکپی طار کر دیتی مگر آپ موسؐ کی سختیوں سے بے پرواہ ہو کر یاد الٰہی میں مشغول رہے اور آپ کے شوق میں ذرہ بھی کمی واقع نہ ہوئی۔
آپ کے اس طرز عمل کو وہ کسان بھی دیکھتے جن کی زرعی اراضی دریائے چناب کے نزدیک تھی۔ ان لوگوں نے جب دیکھا ایک نوجوان دنیا سے بے نیاز عبادت خدا وندی میں ہر وقت مشغول رہتا ہے اور دوسرے درویشوں کی طرھ کسی کے آگے دست سوال نہیں کرتا تو ایک دن ایک کسان صبح سویرے مکئی کی چند روٹیاں اور ساگ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور نہایت ادب سے عرض کیا۔
حضور ! اگر آپ اسے کھا لیں تو مجھے خوشی ہو گی۔ آپ نے بصد اصرار ایک روٹی کھالی اور باقی روٹیاں اورسالن اس کسان کو واپس کر دیا اس کسان نے عرض کیا۔ حضور! کیا آپ کو میری روٹیاں اور سالن پسند نہیں آیا؟۔ آپ نے فرمایا۔ نہیں ایسی کوئی بات نہیں بلکہ میں نے تو پسندیدگی کے ساتھ آپ کی لائی ہوئی روٹی کھائی ہے لیکن مجھے میرے مرشد پاک کا حکم ہے کہ کم کھائوں اور کم سوئوں چنانچہ میں نے اسی لئے ایک روٹی کھائی ہے۔ حضرت بابا بلھے شاہ ؒ کے اپنی اس ملاقات کا ذکر اس کسان نے جا کر اپنی برادری اور دیگر لوگوں سے بھی کیا۔ پھر کیا تھا لوگ جوق در جوق آپ کے پاس آنے لگے۔ کھانے پینے کی اشیاء کا ڈھیر لگ گیا اور آپ کی عبادت میں خلل واقع ہونے لگا۔ ان لوگوں نے ہمیشہ عمر رسیدہ لوگوں کو اتنی سخت ریاضت کرتے ہوئے دیکھا تھا یا پھر سنا تھا مگر یہ نوجوان تو کم عمری میں ہی اتنے سخت مجاہدے میں مشغول تھا کہ اسے موسم کی سختیوں کی بھی کچھ پرواہ نہ تھی۔
حضرت بابا بلھے شاہ ؒ اس تنہائی کی کیفیت سے دوچار نہیں تھے جس تنہائی میں آپ کچھ عرصہ سے رہ رہے تھے۔ آپ کا دل ہجوم دیکھ کر گبھرانے لگا مگر چونکہ یہ مرشد پاک کا حکم تھا اس لئے اپنی ریاضت و عبادت میں سستی کا مظاہرہ نہ کیا۔ آپ جب اداس ہوجاتے تو مرشد پاک خواب میں وارد ہو کر آپ کو تسلی دیتے۔ آپ کو اس بات کا احساس تھا کہ مرشد پاک کی نظر کرم کی وجہ سے میری محنت رائیگاں نہیں جائے گی اسی لئے آپ خواب میں زیارت کے بعد اور زیادہ انہماک سے عبادت و ریاضت میں مصروف ہو جاتے۔
کافی عرصہ دریاے چناب کے کنارے عبادات و ریاضت کے بعد جب حضرت بابا بلھے شاہ ؒ لاہور اپنے پیرو مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جدائی کا یہ عرصہ قریباً چھ برسوں پر محیط تھا۔ ان چھ برسوں میں آپ کو مرشد پاک کی مکمل سرپرستی اور فیض حاصل رہا۔ جب حضرت شاہ عنایت ؒ نے آپ سے ملاقات فرمائی تو دیکھا کہ اب خلوت نشینی کی مزید ضرورت نہیں ہے تو انہوں نے فرمایا۔
عبداللہ اب تم خلوت نشینی ترک کر دو۔
حضرت بابا بلھے شاہ ؒ نے مرشد پا کی بات سنی تو خوشی کے آنسو جاری ہو گئے کہ اب مرشد پاک کی خدمت کی سعادت نصیب ہو گی۔ آپ کافی دیر تک مرشد پاک کے ساتھ لپٹ کر روتے رہے۔ وہ لوگ جو آپ کو خلوت نشینی سے پہلے دیکھ چکے تھے وہ اب شدید عبادت و ریاضت کے بعد کے عبداللہ کو دیکھ کر حیران تھے۔ وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ آپ نے اپنے روزو شب کیسے بسر کیے اور مرشد کی جدائی کا غم انہیں کیسے بے قرار کیئے رکھے تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

Baba Bulleh Shah Poetry in Punjabi top collection 04

Baba Bulleh Shah Poetry in Punjabi top collection 04 First of all thanks for landing

Baba Bulleh Shah Poetry in punjabi top Collection 03

Baba Bulleh Shah Poetry top Collection 03 First of all thanks for landing this article,

Baba Bulleh Shah Poetry top Collection 02

Baba Bulleh Shah Poetry top Collection 02 First of all thanks for landing this article,

Baba Bulleh Shah Poetry Best Collection

Baba Bulleh Shah Poetry Best Collection First of all thanks for landing this article, if

واقعہ حضرت بابا بلھے شاہ ایک سکھ سپاہی کی مدد کرنا

حضرت بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا زمانہ سیاسی انتشار سے بھر

حضرت بابا بلھے شاہ ؒ کی حضور داتا گنج بخش ؒ کے مزار پر حاضر

لاہور میں حضرت عنایت قادری کی خانقاہ میں قیام کے دوران حضرت بابا

حضرت بابا بلھے شاہؒ کا اپنے مرشد تک سفر

حضرت بابا بلھے شاہ کو آپ کے جد امجد سید عبدالحکیم کی زیارت حضرت

حضرت بابا بلھے شاہ کی پانڈو کے منتقلی

حضرت سخی شاہ محمد درویش کو ملکوال میں آباد ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں

حضرت بابا بلھے شاہؒ کی ابتدائی زندگی

حضرت بابا بلھے شاہ کا حقیقی نام سید عبداللہ ہے مگر آپ نے بابا