+(92)305 9265985 +(92) 0300 8040571
books4buy info@books4buy.com

Blog Post

بلال صاحب ناول مصنف شکیل احمد چوہان قسط1


بلال وہ اک نام جو اس کی سوچ کی پتھریلی زمین پر، پتھر پر لکھی ہوئی تحریر کی طرح نقش ہے، وہ نام جسے وہ اپنی زبان پر لانا پسند نہیں کرتی تھی ۔ اب اس کی زبان کا کل اثاثہ ہے‘ وہ ایک ہی ورد جپتی ہے، صبح ہو یا شام بہار ہو یا خزاں اس کے ہونٹوں پر وہی ایک نام ہے، باقی سب کچھ وہ بھول چکی ہے‘ قحط کے دنوں میں میلوں دور تک پھیلے ہوئے ریگستان میں پانی کے آخری کنوئیں سے جیسے زندگی کو امید وابستہ ہوتی ہے۔ اسی طرح وہ نام اس کی زندگی میں پانی کا آخری کنواں ہے، جس سے اس کی زندگی سیراب ہوتی ہے ۔
جس نام کا مطلب وہ پوچھا کرتی تھی، اب اسی کا وظیفہ کرتی ہے، اور وہ نام ہے بلال۔۔۔۔۔۔
وہ جو رنگ و نور کی دنیا میں رہتی تھی، وہ جو رنگوں کو رنگین کردیتی، جسے اپنے حسن پر ناز تھا اور اپنے حسب و نسب پر فخر تھا، اپنی دولت پر اتراتی پھرتی تھی، چاند سا چہرہ تھا، مگر اس میں تپش سورج جیسی، علم واجبی تھا اور دانش واجبی سے بھی کم، جاذب نظر اتنی کہ نظر اس کے حضور مؤدب کھڑی رہتی اس کی دلفریبی دیکھ کر اکثر دل فریب کھاجاتے، خوشبو کی دلدادہ تھی۔ خوشبو کی دکان میں جاتی تو اپنی خوشبو چھوڑ آتی، اس کا پہناوا دیکھ کر لڑکیاں نقل کرتیں، اس کی وارڈ روب کپڑوں سے فل تھیں، ڈریسنگ ٹیبل پر پرفیوم کی بوتلوں کا قبضہ تھا، جوتوں کا شمار کرنا مشکل تھا۔
اس کا کمرہ تتلی سے زیادہ رنگین تھا، لبرل سوچ کی وہ مالک تھی۔ اختصار جس کے پاس سے نہیں گزرا تھا، لیونگ سٹینڈرڈ اپر کلاس والا، پارٹیز میں جانا ڈنرز انجوائے کرنا، فیشن شوز ایگزی بیشن اور کنسرٹ جس کی زندگی تھے۔
پھر اس کی زندگی میں ایک تلاطم آیا یکایک سب کچھ بدل گیا، ان سب نعمتوں سے اس کی علیک سلیک ختم ہوگئی اب 12بائی 14کا کمرہ اس کا مقدر ہے اور یہی اس کی دُنیا، ٹھٹھرتی راتوں اور پگھلتی دوپہروں میں وہ اکیلی ہے۔ اس کا مال و متاع اس کے کسی کام کا نہیں رہا، وہ خالی خالی نظروں سے دیواروں کو دیکھتی رہتی ہے جن کا کلر آف وائیٹ ہے، سفید لباس میں ملبوس جس سنگل بیڈ پر وہ بیٹھی ہے اس کا تکیہ اور بیڈ شیٹ بھی سفید ہیں۔ جنوبی دیوار کی جانب پشت کرکے وہ اپنے بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھی شمالی دیوار پر اٹیچ باتھ کے دروازے کے اوپر لگی ہوئی پینٹنگ کو دیکھتی رہتی ہے ۔
شمالی دیوار پر باتھ روم کے ساتھ 4بائی 6کی کھڑکی ہے، کھڑکی کے نیچے ونڈو ACلگا ہوا ہے۔ ACسے پہلے بلیک لیدر کا لباس پہنے ایک صوفہ پڑا ہوا ہے۔ بیڈ کے دائیں ہاتھ کمرے کا داخلی دروازہ اور بائیں ہاتھ ایک سائیڈ ٹیبل پڑا ہوا ہے، ایک ٹیوب لائٹ اور ایک سفید پنکھا ہے۔ کھڑکی پر لگے پردوں کا رنگ بھی آف وائیٹ ہے، اس کمرے میں اگر کچھ رنگ ہیں بھی تو وہ اس پینٹنگ میں قید ہیں جس سے اس کی نظریں نہیں ہٹتی ہیں۔
وہ پینٹنگ رنگین تو ضرور ہے مگر تلاطم خیز موجوں میں پھنسی ہوئی، ناؤ جس کا ماجھی اُسے چھوڑ کر جاچکا ہے اور وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے تن تنہا ماجھی کے بغیر بقا کی جنگ لڑنا ناممکن سا ہے، یہ اس پینٹنگ کا مضمون (کیپشن) ہے۔ یہ بیس کمروں کا وارڈ ہے آمنے سامنے بیچ میں کوریڈور ہے مغرب کی طرف شروع میں کمرہ نمبر 1اور 20آمنے سامنے ہیں اور کوریڈور کے آخر میں مشرق کی طرف کمرہ نمبر 10اور 11آمنے سامنے ہیں، کوریڈور کے آخر میں مشرقی دیوار کے ساتھ 8بائی 10کی ایک بڑی کھڑکی لگی ہوئی ہے۔وہ کمرہ نمبر 11کی ملکہ ہے اس کی سلطنت میں سورج کی کرنوں کا داخلہ منع ہے۔
دوسرے تیسرے دن سورج کی کرنیں اس کے دیدار سے فیض یاب ہوتی ہیں، جب وہ صبح 10بجے کے آس پاس کوریڈور میں تشریف لاتی ہے۔ کوریڈور میں لگی ہوئی کھڑکی کی دوسری طرف دوکنال کا خالی پلاٹ ہے۔ جہاں جنگلی گھاس کا بسیرا ہے۔
ایک بڑا بوڑھا پیپل کا درخت دوکنال کے پلاٹ کا راجہ ہے اور نیم کا درخت اس کا وزیر اور امردو کے کئی چھوٹے درخت سپاہی ہیں۔ پلاٹ کے دوسری طرف سرکاری ہسپتال کا کچن ہے جہاں سے کھانوں کی خوشبو ہوا کے پروں پر سوار ہوکر اس تک پہنچتی ہے جب وہ کوریڈور میں کھڑکی کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ پیپل کا درخت ایک موسیقار کا احساس لیے ہوئے اس کے سامنے کھڑا ہے جو ہلکے سے ہوا کے جھونکے پر اس کو جھوم کر دکھا دیتا ہے۔ جب کہ نیم اور امرود کے درخت اس ہوا کے جھونکے کو محسوس نہیں کرپاتے سورج کی کرنیں پتوں سے لڑتی جھگڑتی اور لوہے کی جالیوں سے بچتی بچاتی اس کے رخساروں کا بوسہ لیتی ہیں۔
وہ کمرہ نمبر 11کے سامنے کھڑی ہے ایک کے ساتھ ایک کھڑا ہو تو 11بنتا ہے جسے وہ 2کہتی تھی ۔
11تو اسے اب بھی یاد نہیں ہاں البتہ 11کہنے والے کا نام یاد ہے۔ بلال۔۔۔بلال۔۔۔ بلال۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔بقیہ پڑھیے قسط نمبر 2 میں۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

تیسری قسط بلال صاحب ناول-مصنف شکیل احمد چوہان

کمرے میں گیس ہیٹر کی وجہ سے اچھی خاصی حرارت موجود تھی۔ جہاں آرابیگم

بلال صاحب ناول مصنف شکیل احمد چوہان قسط2

ڈاکٹرہاجرہ نیازی اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی ہیں عمر 50سال کے آس پاس اس