+(92)305 9265985 +(92) 0300 8040571
books4buy info@books4buy.com

Blog Post

بلال صاحب ناول مصنف شکیل احمد چوہان قسط2


ڈاکٹرہاجرہ نیازی اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی ہیں عمر 50سال کے آس پاس اس ہسپتال میں تقریباً20سال سے اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ ان کے سامنے میز کی دوسری طرف ایک مرد اور عورت بیٹھے ہیں عورت زندگی میں تقریباً 25بہاریں دیکھ چکی ہے۔ اس کی گود میں ڈیڑھ دو ماہ کا بچہ ہے، اس کے چہرے پر پریشانی کا پڑاؤ ہے۔ مرد کچھ حد تک مطمئن ہے۔
اپنے سامنے پڑی رپورٹس دیکھ کر ڈاکٹر ہاجرہ نیازی نے کہا: ’’پہلے سے کافی بہتر ہے اب میڈیسن کھالیتی ہے‘‘
’’اور کھانا‘‘ عورت یک لخت بولی اس کا پوچھنا فکر مندی ظاہر کر رہا تھا پاس بیٹھے مرد نے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھتے ہوئے کہا
’’ان شاء اللہ وہ ٹھیک ہوجائے گی‘‘ اس نے اپنی طرف سے تشفی دینے کی پوری کوشش کی ۔
’’دیکھو بیٹا ہم صرف کوشش کرسکتے ہیں‘‘ ڈاکٹر ہاجرہ نے نہایت شگفتگی سے کہا اتنے میں آفس بوائے چائے لے کر آگیا اس نے چائے کمرے کے کونے میں پڑے صوفہ سیٹ کے سامنے سنٹر ٹیبل پر رکھ دی۔
’’میڈم! چائے ‘‘ ٹرے میز پر رکھ کر اس نے کہا
’’تم جاؤ میں بنالوں گی‘‘ ڈاکٹر ہاجرہ نے جواب دیا ’’آؤ چائے پیو‘‘ اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا اور صوفے پر بیٹھ کر چائے بنانے میں مشغول ہوگئی، عورت نے اپنے اشکوں کو پلکوں کی دہلیز پر زبردستی روکا ہوا تھا۔ مرد نے اسے بازو سے پکڑا اور آنکھوں سے اٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ دونوں اٹھے اور ڈاکٹر ہاجرہ کے سامنے بیٹھ گئے ان کے بیچ میں سنٹر ٹیبل پڑا ہوا تھا جس پر چائے والی ٹرے پڑی تھی۔ ڈاکٹر ہاجرہ نے چائے کا کپ عورت کی طرف بڑھادیا، مرد نے خود اپنا کپ اٹھالیا چائے کا سپ لیتے ہوئے ڈاکٹر نے کہا
’’ریالٹی یہ ہے کہ چانس تو ہے مگر بہت کمI will try my best،Miracle کرنے والی ذات وہ ہے۔‘‘ عورت کی باڈی لینگویج ایک ہارے ہوئے کھلاڑی کی مانند تھی جو میچ ختم ہونے سے پہلے ہی ہار مان چکا ہو۔
’’میں ان سب باتوں میں بھول ہی گئی تمہیں بہت بہت مبارک ہو‘‘ڈاکٹر ہاجرہ نیازی نے دانائی سے موضوع تبدیل کردیا۔ عورت کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی جیسے وقتی طور پر اس کے زخموں پر مرہم رکھ دیا گیا ہو اور اس کے غم کا مداوا کردیا گیا ہو۔
’’کیا نام رکھا بیٹے کا‘‘بغیر توقف کے ڈاکٹر ہاجرہ نے پوچھا۔
’’بلال محسن‘‘مرد نے تفاخر سے جواب دیا۔ ڈاکٹر ہاجرہ نیازی نے حیرانی سے ان دونوں کی طرف دیکھا اور آہستگی سے کہا:
’’پھر سے بلال‘‘
سورج کے بیدار ہونے سے پہلے فجر کے وقت جب چاند اپنے بستر پر جاکر لیٹ چکا تھا۔ سردیوں کی دھند سورج سے دست و گریباں ہونے کے لیے تیار بیٹھی تھی۔ کمرے میں بڑی پرسکون خاموشی تھی۔ وال کلاک دن کے جاگتے ہی اور رات کے سوتے ہی اپنی آواز سے محروم ہوگیا تھا۔ پرانی وضع کا ایک سنگل بیڈ اور اس کے سامنے دیوار کے ساتھ ایک دیوان اس کا ہم عمر پڑا تھا۔ دیوان کے پڑوس میں رائٹنگ ٹیبل اپنی ساتھی کرسی کے ساتھ جلوہ افروز تھی۔ بیڈ کے بائیں جانب دیوار کے ساتھ لاثانی اور لکڑی کی بنی ہوئی ایک وارڈروب تھی اور اس سے پہلے بیڈ کے ساتھ کتابوں کا ایک خوبصورت آشیانہ تھا جہاں مختلف موضوعات کی سینکڑوں کتابیں محفوظ زندگی گزار رہی تھیں۔ ان کتابوں کو دیکھ کر قاری کی نفاست اور ذوق کا اندازہ ہوتاتھا۔ کمرے کا داخلی دروازہ جوکہ مغرب کی طرف تھا دائیں ہاتھ اٹیچ باتھ روم تھا جس کا دروازہ داخلی دروازے کے ساتھ تھا بائیں ہاتھ ایک دیوارتھی جس کی اندر والی سائیڈ میں سنک لگا تھا ۔ چھوٹے سے کوریڈور سے گزرتے ہوئے بائیں ہاتھ پر اوپن کچن تھا۔ اس کچن کی جنتا کم تھی ایک چھوٹا سا فریج سینڈوچ میکر، الیکٹرک کیٹل اور چند چینی کی پلیٹس اور کرسٹل کے گلاس اور ایک جگ اور چار بڑے خوبصورت مگ اور کچھ چمچ تھے۔ اوون اور چولہے کو کیسے بھول سکتے ہیں۔ دیوان کے ساتھ جائے نماز پر بندہ اپنے اللہ کے سامنے فجر کا آخری سجدہ ادا کر رہا تھا۔ دروازہ کھلا اور گل شیر خان کی نظر سجدے سے اٹھتے ہوئے جاذب نظر چہرے پر پڑی وہ رائٹنگ ٹیبل والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ سلام پھیرتے ہی گل شیر خان بول اٹھا:
’’ماشاء اللہ ‘‘
’’السلام علیکم! خان صاحب۔۔۔!‘‘نمازی نے جائے نماز لپیٹتے ہوئے کہا اور اسے دیوان کے بازو پر رکھ دیا، گل شیر خان یکایک بولا:
’’وعلیکم السلام! میری جان کیسے ہو بلال بیٹا…!‘‘
’’ اللہ کا شکر ہے‘‘بلال احمد نے جواب دیا جوکہ نماز سے فارغ ہوچکا تھا۔’’آپ کے لیے چائے بناؤں‘‘بلال نے کہا ۔
’’تو بہ توبہ تمہاری چائے تم ہی پی سکتے ہو، ہم دودھ والا چائے پیتا ہے‘‘ گل شیر نے جواب دیا۔ بلال کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
’’آپ کیسے تشریف لائے کچھ کام تھا ؟‘‘بلال نے شائستگی سے پوچھا۔
’’بڑے صاحب آگئے ہیں میں بتانے کے لیے آیا تھا ‘‘گل شیر خان نے جواب دیا۔ ’’ٹھیک 9بجے ناشتہ ہے‘‘ جاتے ہوئے کہا۔
’’جی ٹھیک ہے ‘‘بلال نے ہولے سے جواب دیا۔ گل شیر خان کے جانے کے بعد بلال کسی گہری سوچ میں گم ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ سوچوں کے سفر سے واپس لوٹا تو اس کی نظر وال کلاک پر پڑی جو اب خاموشی سے اپنا کام کر رہا تھا ’’دیر ہوگئی ‘‘اس نے خود سے کہا اور جلدی سے ٹریک سوٹ پہنا اور ململ کا کرتہ لٹھے کا پائجامہ اتار کر واشنگ مشین میں ڈال دیا جوکہ بڑے سے باتھ روم کے ایک کونے میں پڑی تھی اور خود جاگنگ کے لیے چلا گیا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔بقیہ پڑھیے قسط نمبر 3 میں۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

تیسری قسط بلال صاحب ناول-مصنف شکیل احمد چوہان

کمرے میں گیس ہیٹر کی وجہ سے اچھی خاصی حرارت موجود تھی۔ جہاں آرابیگم

بلال صاحب ناول مصنف شکیل احمد چوہان قسط1

بلال وہ اک نام جو اس کی سوچ کی پتھریلی زمین پر، پتھر پر