+(92)305 9265985 +(92) 0300 8040571
books4buy info@books4buy.com

Blog Post

تیسری قسط بلال صاحب ناول-مصنف شکیل احمد چوہان


کمرے میں گیس ہیٹر کی وجہ سے اچھی خاصی حرارت موجود تھی۔ جہاں آرابیگم ہاتھ میں تسبیح لیے توبہ استغفار میں مصروف تھیں ۔ اُسی لمحے دروازہ کھلا۔
’’ماں جی آداب…!‘‘اندر آتے ہوئے جمال رندھاوا نے کہا۔ جہاں آرا بیگم کی آنکھیں روشن ہوگئیں۔ اُنہوں نے اپنی موونگ چیئر سے اٹھنا چاہا۔
’’آپ تشریف رکھیں ماں جی‘‘جمال رندھاوا خود ہی جلدی سے اپنی ماں کے گلے ملا پھر ماں کے قدموں میں کارپٹ پر کُشن کے اوپر بیٹھ گیا ’’میرا بچہ ‘‘ہولے ہولے بالوں اور منہ پر پیار کرتے ہوئے جہاں آرا بیگم نے کہا ’’کب آئے ‘‘جمال رندھاوا نے ہاتھ چومتے ہوئے جواب دیا ’’تھوڑی دیر پہلے ، آپ کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘’’اللہ کا شکر ہے بیٹا کافی دن لگادیے اس بار ‘‘جہاں آرا نے پوچھا ۔ ’’بس کام کچھ زیادہ تھا ماں جی خیر آپ سنائیں کیا چل رہا ہے آج کل۔۔۔؟‘‘ جمال نے پوچھا۔
’’میں گھر میں پڑی رہتی ہوں تمہارا بیٹا اور بیوی اپنی فیکٹری کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں ۔ نوشی اور توشی وہ کیا کہتے ہیں اسے…؟ ‘‘’’بوتیک‘‘جمال نے لقمہ دیا۔
’’ہاں بوتیک میں مصروف رہتی ہیں‘‘
’’اور بلال‘‘جمال نے آنکھوں سے سوال کیا۔
’’وہ عشاء کے بعد آکر میری خدمت گزاری کرتا ہے اور صبح جانے سے پہلے سلام کرنے آتا ہے ‘‘جہاں آرا بیگم نے تفصیل سے اپنے بیٹے جمال رندھاوا کو جواب دیا۔
بلال جاگنگ کرکے اپنے کمرے میں واپس لوٹا تب تک سورج کی کرنیں دُھند کو کھاگئی تھیں۔ وہ کمرے کے پردے ہٹاتا ہے تو کرنیں اس کا چہرہ چوم لیتی ہیں۔ سامنے ٹیرس کا شیشے والا دروازہ کھول کر وہ گملوں میں لگے ہوئے پودوں رات کی رانی، سرخ گلاب، موتیا اور دن کا راجہ سے ملتا ہے جو مسکرا کر اس کا استقبال کرتے ہیں۔
رات کی رانی کی خوشبو اب بھی فضا میں موجود ہے۔ تمام پودوں کے پھولوں کا بازارِ حسن سجا ہوا ہے۔ پھولوں کے چہروں پر ہلکا ہلکا تبسم ہے۔ جن کو دیکھ کر پیام حیات کا احساس ہوتا ہے۔
اب باری چھت پر جانے کی ہے وہ کمرے سے باہر آکر داخلی دروازے کے ساتھ اوپر جاتی سیڑھیوں پر چلتا ہوا اپنے کمرے کی چھت پر پہنچ جاتا ہے۔ جہاں جمالیات کی ایک الگ دنیا آباد ہے۔ ایک طرف پودوں کا گرین ہاؤس اور دوسری طرف پرندوں کا ایئر پورٹ ہے۔ چھت کے مشرقی حصے پر بڑے بڑے گملوں کا قبضہ ہے۔ جن کے اندر پودینہ، ہری مرچ، دھنیا کے پودوں کا جم غفیر ہے۔ یہ سارے پودے بلال کی محنت کا ثمر ہیں۔ یہ گرین ہاؤس ہے بلال کا گرین ہاؤس ہے۔ چھت کے مغربی حصے پر پرندوں کا مسافر خانہ ہے پرندوں کی خاطر مدارت کے لیے مختلف اقسام کا دانہ اور پانی میسر ہے جوکہ چھوٹی بڑی مٹی کی کنالیوں میں رکھا گیا ہے۔ اکثر مسافر پرندے اس دستر خوان سے پانی پینا اور دانہ چننا عین سعادت سمجھتے ہیں کیونکہ یہ بلال کا دستر خوان ہے۔ بلال کا یہ معمول تقریباً 14 سال سے ہے۔ وہ ہر روز ان کنالیوں میں دانہ اور پانی ڈالتا ہے اور ہفتے میں ایک بار ان کی صفائی کرتا ہے۔
یہ دو کنال کا خوبصورت بنگلہ ڈیفنس میں واقع ہے جوکہ اب جمال رندھاوا کی ملکیت ہے۔ چوہدری ارشاد رندھاوا نے کئی سال پہلے اپنے دونوں بچوں جمال اور جمیلہ کے لیے دو پلاٹ خریدے، جن پر باہمی مشاورت سے یہ خوبصورت بنگلہ تعمیر کیا گیا۔ جمال کے پلاٹ پر یہ بنگلہ بنایا گیا اور ساتھ دوسرے پلاٹ پر ایک خوبصورت چھوٹا سا ڈبل یونٹ تعمیر کیا گیا جس کو ڈیزائن خود جمیلہ رندھاوا نے کیا تھا۔
اب یہ ایک ہی گھر کا حصہ ہیں ۔ بنگلہ کے سامنے گھر کا خوبصورت لان ہے اور پچھلی سائیڈ پر سرونٹ کواٹرز ہیں۔ ڈبل یونٹ کے سامنے اب گاڑیوں کا پورچ ہے اور اس سے پہلے گھر کا مین گیٹ ہے ۔ مین گیٹ کے ساتھ بائیں جانب سکیورٹی گارڈ کا روم ہے۔
یہ بنگلہ جدید فن تعمیر کا ایک دلکش نمونہ ہے۔ بنگلے کے بیرونی حصے پر سرخ گھٹکا لگا ہوا ہے۔ جیسے کوئی دلہن سرخعروسی لباس پہن کر بیٹھی ہو۔
یہ رندھاوا ہاؤس ہے۔
بڑے سے ڈائننگ ہال میں جمال رندھاوا بڑے سے ڈائننگ ٹیبل پر اخبار پڑھنے میں مصروف تھا۔ باجی غفوراں اور شاہد محمود سکھیرا کچن میں ناشتہ تیار کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ ہال کے عقب میں ایک بڑا دلکش کچن واقع تھا۔
’’وئے شاہد۔۔۔! آج تو بلال بھی ناشتے کے لیے آئے گا‘‘باجی غفوراں نے کہا جو کہ چائے بنانے میں مصروف تھی۔
’’Yes BG‘‘شاہد نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے جواب دیا ۔
’’اوئے فرنگیوں کی اولاد تجھے کتنی بار سمجھایا ہے یابا جی بول نہیں تو سیدھا غفوراں کہہ لے یہ BGمت کہا کر‘‘باجی غفوراں نے بائیں ہاتھ کو اپنی کمر پر رکھتے ہوئے دائیں ہاتھ سے شاہد کی گردن پر تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا۔
’’یہ ہاتھ چالاکی مت کیا کر باجی غفوراں تجھے کتنی بار کہا ہے ‘‘چڑ کر تیور دکھاتے ہوئے شاہد نے تلخ جواب دیا۔
’’تیری ماں جیسی ہوں تجھے اپنے بچوں کی طرح چوما چاٹا ہے۔ اتنا بھی حق نہیں ہے میرا؟ ‘‘باجی غفوراں نے بازو سے پکڑ کر جھنجوڑ کر جواب دیا ۔
’’چل فیر کوئی گل نئیں‘‘پنجابی فلموں کے ہیرو کی طرح شاہد نے کہا۔ ’’تینوں سات خون معاف باجی‘‘
’’خون تو ایک بھی معاف نہیں ہوتا شاہد‘‘لمبی ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے باجی غفوراں بول اٹھی جیسے کوئی زخم ہرے ہوگئے ہوں اس کے۔
نوبجنے میں پانچ منٹ باقی تھے جب بلال ڈائننگ ہال میں داخل ہوا ۔
’’السلام علیکم ماموں جان‘‘بلال نے شائستگی سے کہا ۔
’’وعلیکم السلام ‘‘وال کلاک دیکھتے ہوئے ’’ٹائم کی پابندی کوئی تم سے سیکھے بلال…!‘‘گلے لگاکر بلال کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر کہا ۔
اتنے میں جہاں آرا بیگم بھی تشریف لے آئیں۔ ڈائننگ ٹیبل کے اطراف میں محفل سج گئی۔
جمال کے دائیں ہاتھ جمال کی بیوی ناہید جمال اور ایک کرسی چھوڑ کر اس کی دونوں بیٹیاں نسیم اور تسلیم یعنی نوشی اور توشی براجمان تھیں، بائیں ہاتھ ایک کرسی خالی تھی۔ جس پر سب کی نظریں تھیں، اس گھر کا ولی عہد شعیب، جمال کا اکلوتا اور بڑا بیٹا۔ جمال لیڈر آف دا ہاؤس کی کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کے بالکل سامنے اس کی ماں جہاں آرا تشریف فرما تھیں۔ جہاں آرا کے دائیں ہاتھ ان کا نواسہ بلال احمد بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔ انتہائی سادہ ناشتہ دوبراؤن بریڈ کے سلائس ایک انڈے کی سفیدی اور چائے کا پھیکا کپ۔
جمال خاموشی توڑتے ہوئے ناہید جمال سے مخاطب ہوا۔
’’شعیب صاحب کہاں ہیں ‘‘چائے کا سپ لیتے ہوئے پوچھا۔’’اپنے کمرے میں ہوگا‘‘ناہید نے ابرو چڑھاتے ہوئے تیکھی نظروں سے جمال کو دیکھ کر جواب دیا۔
’’شاہد ۔۔۔شاہد ۔۔۔!‘‘جمال نے رُعب دار آواز میں شاہد کو بلایا۔
’’جی سر‘‘شاہد چند سیکنڈ میں پاس کھڑا عرض کر رہا تھا۔
’’شعیب صاحب کو بلا کرلاؤ‘‘جمال نے اُسی انداز میں پھر کہا۔
شاہد کے جانے سے پہلے آواز آئی ۔
’’ہیلو ڈیڈ۔۔۔ ہیلو ایوری باڈی۔۔۔‘‘شعیب آچکا تھا۔
’’بیٹا آپ پندرہ منٹ لیٹ ہیں ‘‘جمال نے شعیب کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بتایا۔
’’ڈیڈ ہمارے سوشل سرکل میں ٹائم پر آنے والے کو ایڈیٹ سمجھا جاتا ہے ‘‘شعیب نے بلال کی طرف دیکھ کر طنزیہ لہجے میں کہا۔
’’یہ تمہارا سوشل سرکل نہیں تمہارا گھر ہے‘‘جمال نے کچھ خفگی سے کہا۔
’’رندھاوا صاحب۔۔۔! وہی تو۔۔۔ یہ اسکول نہیں گھر ہے۔ ڈائننگ ہال اور میٹنگ ہال میں فرق رکھا کریں۔ شعیب۔۔۔! تم ناشتہ کرو۔‘‘ ناہید نے بلال اور جمال کو گھوری ڈالتے ہوئے جواب دیا۔
’’میرا ناشتہ کہاں ہے؟ کہاں مرگئے ہوSMS۔۔۔؟‘‘شعیب چلّایا۔
’’آپ نے بلایا بندہ حاضر ہے ‘‘SMSیعنی شاہد محمود سکھیرا مسکا پالش لگاتے ہوئے مؤدب جوس کا گلاس لیے پاس کھڑا تھا۔
شعیب غٹاغٹ جوس کا گلاس پی کر فارغ ہوگیا اور اجازت لے کر چلا بھی گیا۔
’’ڈیڈ ہم بھی یہاں بیٹھے ہیں ‘‘توشی نے خفگی سے کہا ’’ہمیں تو کوئی پوچھ ہی نہیں رہا ‘‘
’’یہ لو۔۔۔فرمائیں ‘‘ جمال نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
’’فرمائیں خاک آپ نے کچھ پوچھا ہی نہیں ‘‘توشی یکایک بولی۔سب ہنس پڑے ناشتے کے دوران ناہید اور نوشی لال پیلی ہوتی رہیں مگر کچھ کہا نہیں۔ ناشتے سے فارغ ہوکر نوشی اور ناہید بھی چلی گئیں بلال اٹھنے لگا جس کے ہاتھ میں اپنی نانی جہاں آرا بیگم کا ہاتھ تھا۔
’’بلال…! تم رکو‘‘جمال نے سگار سلگاتے ہوئے بلال سے کہا ۔ ’’ماں جی آپ توشی کے ساتھ تشریف لے جائیں‘‘
جمال رندھاوا اور بلال ڈائننگ ہال سے نکل کر لاؤنج سے ہوتے ہوئے کوریڈور میں تھے تب جمال نے اپنے بلیک کوٹ کی دائیں پاکٹ میں پڑے چیک کو نکالا۔
گل شیر خان بلیک مرسیڈیز کا دروازہ کھولے کھڑا تھا۔ گاڑی کے پاس پہنچ کر جمال نے وہ چیک بلال کو دیا۔
’’ماموں جان ضرورت نہیں ہے ‘‘بلال نے دبی دبی آواز میں عرض کیا۔
’’جب ضرورت ہوگی مانگ لوں گا ‘‘
’’کاش وہ دن آئے میری زندگی میں ‘‘جمال نپے تلے انداز میں بولا ’’میں نے اپنی زندگی میں تم جیسا Selfless بندہ نہیں دیکھا‘‘جمال نے چیک بلال کے ہاتھ میں تھمادیا وہ چیک Cashکا تھا بلال نے وہ چیک گل شیر خان کو دیتے ہوئے درخواست کی آپ Cashکروادیجیے گا۔
جمال گاڑی میں بیٹھ چکا تھا اور جانچتی نظروں سے بلال کو دیکھ رہا تھا ۔ جمال اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے چلا گیا۔
گاڑی فیروزپور روڈ پر تھی۔ڈرائیور کے ساتھ گل شیر خان بیٹھا تھا اور پچھلی سیٹ پر جمال۔
’’خان صاحب۔۔۔! آپ بھی۔۔۔‘‘ جمال نے گلے کے انداز میں کہا۔
’’رندھاوا صاحب۔۔۔! آپ سب جانتے ہیں۔۔۔ پھر کیوں دیتے ہیں اُسے چیک؟‘‘
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔بقیہ پڑھیے قسط نمبر 4 میں۔۔
اگر آپ یہ ناول خریدنا چاہتے ہیں تو دیئے گئے نمبر پر مسیج وٹس اپ یا کال کریں
03059265985
books4buy.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

بلال صاحب ناول مصنف شکیل احمد چوہان قسط2

ڈاکٹرہاجرہ نیازی اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی ہیں عمر 50سال کے آس پاس اس

بلال صاحب ناول مصنف شکیل احمد چوہان قسط1

بلال وہ اک نام جو اس کی سوچ کی پتھریلی زمین پر، پتھر پر