+(92)305 9265985 +(92) 0300 8040571
books4buy info@books4buy.com

Blog Post

حضرت بابا بلھے شاہؒ کا اپنے مرشد تک سفر


حضرت بابا بلھے شاہ کو آپ کے جد امجد سید عبدالحکیم کی زیارت
حضرت بابا بلھے شاہ ایک دن معمول کے مطابق وظیفہ پڑھ کر سوئے تو خواب میں دیکھا کہ آپ سفر میں ہیں اور شدید گرمی کا موسم ہے۔ آپ ادھر ادھر نگاہ دوڑاتے ہیں کہ شاید کوئی درخت نظر آئے جس کے سایہ میں آرام ملے۔ پھر آپ کو ایک جگہ چند درخت نظر آتے ہیں اور آپ ان میں سے ایک درخت کے نیچے جا کر آرام کی غرض سے لیٹ جاتے ہیں۔ ابھی حضرت بابا بلھے شاہ کو لیٹے کچھ دیر ہوتی ہے کہ آسمان سے ایک تخت اترتا نظر آتا ہے پھر جب وہ تخت نزدیک آتا ہے تو اس تخت پر ایک نورانی چہرے والے بزرگ تشریف فرما ہوتے ہیں۔ آپ انہیں سلام کرتے ہیں تو وہ اسلام کا جواب دینے کےبعد دریافت کرتے ہیں کہ کیا تم مجھے جانتے ہیں؟ حضڑت بابا بلھے شاہ فرماتے ہیں کہ نہیں میں نے آپ کو پہلی مرتبہ دیکھا ہے ۔ پھر وہ فرماتے ہیں کہ بیٹا! میں تمہارا جد امجد ہوں اور میرا نام سید عبدالحکیم (رحمتہ اللہ علیہ) ہے تم مجھے پانی پلائو کہ مجھے پیاس لگی ہے۔ حضرت بابا بلھے شاہ فرماتے ہیں اس وقت میرے پاس ایک دودھ کا پیالہ موجود تھا میں نے وہ آپ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ آپ نے وہ دودھ پی لیا اور تھوڑا جو بچا وہ مجھے دیتے ہوئے فرمایا اسے پی لو۔ میں نے اسے عین سعادت جانا اور فوراً وہ بچا ہوا دودھ پی یا پھر آپ نے میرے حق میں دعائے خیر فرمائی اور فرمایا۔
“عبداللہ ! تمہیں چاہئے کہ تم کسی کامل مرشد کے دست حق پر بیعت کر لو اس سے تمہاری بے قراری کو سکون میسر ہو گا۔ “یہ فرما کر وہ بزرگ آسمان کی وسعتوں میں تخت سمیت غائب ہو گئے اور میں نیند سے بیدار ہو گیا۔
مایوس ہونے کی ضرورت نہیں!
حضرت بابا بلھے شاہ فرماتے ہیں میں نے والد بزرگوار حضرت سخی شاہ محمد درویش کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا خواب ان کے گوش گزار کیا۔ آپ نے سنا تو خوش کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: بیٹا! تم سے ایک غلطی ہو گئی تم کو چاہئے تھا کہ تم ان سے مرشد کامل کا نام پوچھ لیتے اس طرح تمہاری مشکل آسان ہو جاتی یا پھر ان کی خدمت میں عرض کرتے کہ میں آپ کو چھوڑ کر کس کے پاس جائوں؟
حضرت بابا بلھے شاہ نے جب والد بزرگوار کی بات سنی تو پریشانی کے عالم میں عرض کیا کہ میں اب مرشد کامل کو کہاں تلاش کروں؟ والد بزرگوار بولے ۔ عبداللہ ! مایوس ہونے کی ضرورت نہیں اللہ عزوجل تمہاری رہنمائی فرمائے گا۔
حضرت سخی شاہ محمد درویش نے حضرت بابا بلھے شاہ کو اپنے بیٹے کو دلاسہ دیا اور رات کو مراقبہ کیا تا کہ بیٹے کی پریشانی کا کچھ حل ممکن ہو۔ مراقبہ میں ان پر یہ راز کھلا کہ ان کے جد امجد حضرت سید عبدالحکیم کا مزار پاک لاہور کے علاقہ ساندہ میں واقع ہے۔ آپ نے صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد حضرت بابا بلھے شاہ سے فرمایا۔ عبداللہ تمہارے جد امجد کا مزار پاک لاہور کے علاقے میں ساندہ میں ہے تم ان کے مزار پاک پر حاضر ہو اور مراقبہ کرو۔
حضرت بابا بلھے شاہ نے والد بزرگوار کی بات سنی تو آپ کی بے قراری مزید بڑھ گئی آپ نے والد بزرگوار سے لاہور جانے کی اجازت طلب کی اور اجازت ملتے ہی لاہور تشریف لائے۔ اپنے جد امجد کے مزار پاک پر حاضر ہوئے اور دعائے خیر فرمانے کے بعد مزار پاک سے ملحقہ مسجد میں مقیم ہوئے۔ نصف رات کو خواب میں ایک مرتبہ پھر حضر ت سید عبدالحکیم کی زیارت ہوئی اور آپ پہلے کی مانند تخت پر جلوہ افروز تھے۔ آپ نے حضرت بابا بلھے شاہ سے پوچھا۔ عبداللہ کیا مرشد مل گئے یا ابھی تلاش جاری ہے؟ حضرت بابا بلھے شاہ نے عرض کیا۔ حضور! میں مرشد کی تلاش میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکا آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ اب میرے اند ر مرشد کی تلاش کی مزید ہمت باقی نہیں رہی اور میرے لئے یہی سعادت کہ آپ کی زیارت سے دوسری مرتبہ مشرف ہو رہا ہوں آپ مجھے اپنے دامن آغوش میں لے لیجئے یا پھر اگر ایسا ممکن نہ ہو تو میری منزل تک میری راہنمائی فرما دیجئے۔آپ کے جد امجد نے جب آپ کی بیقراری دیکھی تو مسکراتے ہوئے فرمایا: عبداللہ! تمہارا حصہ تو شاہ عنایت قادری شطاری کے پاس لاہور ہی میں موجود ہے تمہیں انہیں تلاش کرنا کچھ مشکل نہ ہو گا میری نصیحت یہ ہے کہ ایک مرتبہ مرشد کا دامن پکڑ کر ساری زندگی اس دامن کو ہاتھ سے مت چھوڑنا ان کے در اقدس پر ایک سائل کی طرح حاضری دینا اور جو بھی مرشد عطا کریں اس پر فخر اور صبر کرنا کیونکہ یہ معاملات بہت نازک ہوتے ہیں صبر و شکر ہی سے راہوں کو آسان بنایا جا سکتا ہے اپنی ارادت مندی کو عشق کا درجہ دے کر ہی تم اپنی حقیقی منزل کو پاسکتے ہو میری دعا ہے کہ اللہ تمہیں دونوں جہانوں کی سعادتوں اور برکات سے نوازے۔
حضرت بابا بلھے شاہ نیند سے بیدار ہوئے اور آپ کا چہرہ مرشد کامل کے ملنے پر خوشی سے دمک رہا تھا۔ آپ نے حضرت سید عبدالحکیم کے مزار پاک پر الوداعی حاضری دی۔
بلھیا! شوہ نگر سچ پایا، جھوٹھا رولا سب مکایا
سچیاں کارن سچ سنایا، پایا اس پاک دا جمال

حضرت بابا بلھے شاہ واپس پانڈو کے پہنچنے کےبعد والد بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں حضرت سید عبدالحکیم کے مزار پاک پر حاضری اور پھر اپنے خواب کے متعلق بیان اور مرشد پاک کی نشاندہی کے متعلق بتایا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کی بات سنی خوشی کا اظہار کیا اور منزل مقصود کی نشاندہی پر انہیں مبارک باد دی۔حضرت بابا بلھے شاہ نے والد بزرگوار سے مستقل لاہور جانے اور مرشد پاک کے دست حق پر بیعت کی اجازت طلب کی ۔ حضرت سخی شاہ محمد درویش نے بخوشی اجازت دیتے ہوئے فرمایا۔
عبداللہ! تم راہ حق پر خلوص کے ساتھ چلنا اور مرشد پاک تمہیں جو نصیحت کریں اس پر عمل کرنا اور اس کی رضا کی جستجو میں رہنا کیونکہ مرشد پاک کی رضا درحقیقت اللہ عزوجل کی رضا ہے۔ پھر آ پ کے والد نے کچھ نقدی اور ایک دستار آپ کو د ی اور فرمایا “یہ مرشد کی نذر کر دینا۔”
حضرت بابا بلھے شاہ والد بزرگوار کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد والدہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے بھی اجازت لے کر لاہور کی جانب عازم سفر ہوئے۔
حضرت بابا بلھے شاہ عازم لاہور ہوئے اور حضرت شاہ عنایت قادری شطاری کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے درس میں شمولیت اختیار کی۔ جب درس ختم ہوا اور تمام طالبان حق آہستہ آہستہ چلے گئے اور خانقاہ میں خدام کے علاوہ آپ اور حضرت شاہ عنایت قادری شطاری موجود تھے۔ حضرت شاہ عنایت (رحمتہ اللہ علیہ)بذریعہ کشف حضرت بابا بلھے شاہ کی آمد کا مقصد جان چکے تھے پھر بھی آپ نے حضرت بابا بلھے شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے دریافت کیا۔ نوجوان ! تمہارا کیا مسئلہ ہے سب لوگ چلے گئے تم بھی اب اپنے گھر لوٹ جائو؟
حضرت بابابلھے شاہ نے عرض کیا۔
حضور میں جانے کے لئے نہیں آیا میں آپ کے قدموں میں رہنا چاہتا ہوں اور میں بڑی دور سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔حضرت شاہ عنایت ؒ نے حضرت بابا بلھے شاہؒ کا جواب سنا تو مسکرا ئے اور فرمایا:
ہاں! مجھے علم ہے کہ تم کافی دور سے آئے ہو مگر ہماری بھی مجبوری ہے کہ ہمارے پاس کسی کو ٹھہرانے کا کوئی انتظام نہیں۔ حضرت بابا بلھے شاہؒ نے عرض کیا۔
حضور! میں یہاں مہمان بننے کے لئے نہیں بلکہ آپ کا خادم بننے آیا ہوں۔حضر شاہ عنایتؒ نے حضرت بابا بلھے شاہؒ کی بات سے آپ قلبی کیفیت کا اندازہ کیا اور آپ کو سعادت بیعت سے سرفراز فرمایا۔ آپ کا وقت محبویت کے عالم میں بسر ہونے لگا اور آپ کے اندر اپنے مرشد پاک کی محبت عشق کی حد تک سرایت کر گئی اور آ پ کے دل پر مرشد پاک کی محبت کا اس قدر گہرا رنگ چڑھا کہ آپ کو ہر جانب ماسوائے مرشد پاک کی محبت کا اس قدر گہرا رنگ چڑھا کہ آپ کو ہر جانب ماسوائے مرشد پاک کے کوئی اور شے نظر نہ آتی تھی۔ آپ لوگوں سے بھی بے پرواہ اور لاتعلق رہنے لگے تھے۔ آپ نے اپنی قلبی کیفیت کا اظہار یوں فرمایا:۔
جو رنگ رنگیا گوہڑا رنگیا مرشد والی لالی او یار
حضرت بابا بلھے شاہ اس گوہڑے رنگ کے بارے میں اپنی اکثر کافیوں میں ذکر کرتے ہیں۔ آپ اپنے کلام میں اپنے عشق ، مرشد کی تعریف و توصیف کے علاوہ عجیب مستی، رنگینی ، وجد اور شکر انہ کا بھی ذکر کرتے ہیں اور آپ کا یہ عشق یہاں تک بڑھا کہ اللہ عزوجل اور مرشد میں کوئی تمیز باقی نہ رہی۔حضرت بابا بلھے شاہ اپنے مرشد پاک حضرت شاہ عنایت قادری شطاری ؒ کو ہدایت دینے والا ہادی، اللہ عزوجل سے وصال کروانے والا، خصم، شوہ، سائیں، دلبر، سجن اور یار کے القاب سے پکارنے لگے جس کا اظہار آپ کے کلام میں جا بجا ہوتا ہے۔ آپ اکثر مستی کی کیفیت میں ذیل کا شعر پڑھا کرتے تھے۔
؎ بلھیا جے تو باغ بہاراں
لوڑیں چا کر ہو جا رائیں دا

حضرت بابا بلھے شاہ اپنے مرشد پاک کو سچا عا رف، روح کا مالک اور لوہے کو سونا بنانے والا پارس کہتے ہیں۔
بلھا شو عنایت عارف ہے
اوہ دل میرے داوارث ہے
میں لوہا تے او پارس ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

Baba Bulleh Shah Poetry in Punjabi top collection 04

Baba Bulleh Shah Poetry in Punjabi top collection 04 First of all thanks for landing

Baba Bulleh Shah Poetry in punjabi top Collection 03

Baba Bulleh Shah Poetry top Collection 03 First of all thanks for landing this article,

Baba Bulleh Shah Poetry top Collection 02

Baba Bulleh Shah Poetry top Collection 02 First of all thanks for landing this article,

Baba Bulleh Shah Poetry Best Collection

Baba Bulleh Shah Poetry Best Collection First of all thanks for landing this article, if

واقعہ حضرت بابا بلھے شاہ ایک سکھ سپاہی کی مدد کرنا

حضرت بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا زمانہ سیاسی انتشار سے بھر

حضرت بابا بلھے شاہ ؒ کی حضور داتا گنج بخش ؒ کے مزار پر حاضر

لاہور میں حضرت عنایت قادری کی خانقاہ میں قیام کے دوران حضرت بابا

بابا بلھے شاہ ؒ کی اپنے مرشد سے محبت اور خاندان سے اختلاف

حضرت بابا بلھے شاہ (رحمتہ اللہ علیہ) کی ہمشیرگان اور دیگر اہل خانہ نے

حضرت بابا بلھے شاہ کی پانڈو کے منتقلی

حضرت سخی شاہ محمد درویش کو ملکوال میں آباد ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں

حضرت بابا بلھے شاہؒ کی ابتدائی زندگی

حضرت بابا بلھے شاہ کا حقیقی نام سید عبداللہ ہے مگر آپ نے بابا