+(92)305 9265985 +(92) 0300 8040571
books4buy info@books4buy.com

Blog Post

حضرت بابا بلھے شاہ ؒ کی حضور داتا گنج بخش ؒ کے مزار پر حاضر


لاہور میں حضرت عنایت قادری کی خانقاہ میں قیام کے دوران حضرت بابا بلھے شاہ اکثر و بیشتر حضور داتا گنج بخش ؒ کے مزار پاک پر حاضر ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ مزار پاک میں موجود تھے اور سینکڑوں طالبان حق بھی حاضر خدمت تھے لوگ اپنے نعتیہ کلام سنا رہے تھے۔ اس موقع پر آپ نے اپنی پنجابی نعت پڑھی اور سب لوگوں کو حیران کر دیا اور لوگوں پر آپ کی نعت سننے کے بعد ایک مستانہ کیفیت طاری تھی۔


جدوں احد ایک اکلا سی ، نہ ظاہر کوئی تجلا سی
نہ رب رسول نہ اللہ سی نہ جبار تے نہ قہار
بے چون و بے چگونہ سی بے شبہ تے بے نمونہ سی
نہ کوئی رنگ نمونہ سی ہن ہویا گونا گونا ہزار
پھر کن کیہا فیکون کمایا بے چونی تو چون بنایا
“احد” دے وچ”میم” رلایا تاہیو کیتا ایڈ پسار
ہن میں لکھیا سوہنا یار جس دے حسن دا گرم بزار
پیر پیغمبر اس دے بردے، انس ملائک سجدے کر دے
سر قدماں دے اتے دھر دے، سب تو وڈی او ہ سرکار
تجوں میست تجوں بت خانہ برقی رہاں نہ روزہ جاناں
بھلا وضو نماز دوگانہ تیں پر جان کراں نثار
جو کوئی اس نوں لکھیا چاہے بے وسیلے نہ لکھیا جائے
شاہ عنایت بھیت بتائے تاہیں کھلے سب اسرار
ہن میں لکھیا سوہنا یار جس دے حسن دا گرم بزار

اس محفل میں شرکت کے بعد اور اس نعت کو پڑھنے کے بعد حضرت بابا بلھے شاہ ؒ کے قلب میں دیدار مصطفیٰ کی لگن مزید بڑھ گئی اور آپ کے ساتھ ساتھ لوگوں کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے۔ حضرت بابا بلھے شاہ نے حضور داتا گنج بخش ؒ کے مزار پاک سے رخصت ہونے کے بعد اپنے مرشد سے حضور نبی کریم ﷺ کے دیدار کی خواہش ظاہر کی اور پھر مرشد پاک نے آپ کی اس خواہش کو پورا فرمایا اور اپنے لئے بھی عین سعادت قرار دیا۔


حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت با سعادت
ایس صورت نوں میں جان آکھاں
جانانِ کہ جان جہان آکھاں
سچ آکھاں تے رب دی شان آکھاں
جس شان تھیں شاناں سب بنیاں

حضرت بابا بلھے شاہ ؒ حضور داتا گنج بخش ؒ کے مزار پاک سے لوٹے تو سیدھے مرشد پاک کی خدمت میں حاضر ہوے۔آپ کی ظاہری حالت آپ کے باطن کو ظاہر کر رہی تھی۔ مرشد پاک کو معلوم تھا کہ آپ اس وقت حضور داتا گنج بخش ؒ کے دربار پر حاضر دے کر آئے ہیں۔ حضرت شاہ عنایت قادری شطاری نے آپ سے دریافت فرمایا۔
عبداللہ! یہ کیا حالت ہو گئی جب گئے تھے تو سب ٹھیک تھا اور جب آئے ہو تو کچھ ٹھیک نہیں ہے مجھے بتائو کہ تمہیں کیا پریشانی لاحق ہو گئی؟”
حضرت بابا بلھے شاہ ؒ نے روتے ہوئے عرض کیا۔
حضور! میں حضور نبی کریم ﷺ کی یاد میں تڑپ رہا ہوں آج حضور داتا گنج بخش ؒ کے مزار پاک کے احاطہ میں لوگ نعتیہ کلام پڑھ رہے تھے میں نے بھی پڑھا اور پھر مجھے اپنی محرومی پر رونا آ گیا۔
آپ کے مرشد نے جب آپ کی بات سنی تو آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا:
بیٹا عبداللہ ! حضور نبی کریم ﷺ کی یاد میں آنسو بہانا کسی سعادت سے کم نہیں اللہ عزوجل تمہاری پکار ضرور سنے گااور اگر اس نے تمہاری پکار سن لی تو پھر تم مفلس نہیں رہو گے۔
حضرت بابا بلھے شاہ کی آنکھوں میں عقیدت کے آنسورواں تھے اور یہ وہ آنسو تھے جو صرف دیدار مصطفی ﷺ کے لئے نکل رہے تھے۔ آپ نے روتے ہوئے عرض کیا۔
مرشد پاک! میں تو ان آنسوئوں کو شہر رسول ﷺ کی گلیوں کی خاک میں جذب کرنا چاہتا ہوں کہ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے جس نے میری قبر کی زیارت کی گویا اس مجھے زندہ دیکھ لیا۔ آپ میرے لئے دعا فرمائیے۔
آپ کے مرشد پاک نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا۔
بیٹا عبداللہ ! کیا تم مدینہ جانا چاہتے ہو؟
حضرت بابا بلھے شاہ نے عرض کیا۔ مرشد پاک اب دیدار کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ آپ کے مرشد پاک نے ایک مرتبہ پھر کچھ دیر کے لئے خاموشی اختیار کی اور پھر فرمایا:
بیٹا عبداللہ ! تمہیں تمہارے سوال کا جواب تین روز بعد مل جائے گا اپنے حوصلوں کو قابومیں رکھنا اور اللہ عزوجل سے لو لگائے رکھنا اللہ عزوجل سب بہتر کرنے والا ہے۔
حضرت بابا بلھے شاہ ؒ یہ سن کر ملول ہو گئے اور دل میں خیال آیا کہ شاید ان کےمقدر میں مدینہ منورہ کی حاضری نہیں ہے ورنہ پیر مرشد تین دن انتظار کا حکم نہ دیتے۔ تیسری رات کو جب آپ آدھی رات کے وقت وظائف سے فارغ ہو کر سونے کے لئے لیٹے تو یہی خیال ذہن میں گردش کر رہا تھا اور انہی خیالوں کے ساتھ آپ نیند کی وادیوں میں چلے گئے۔حضرت بابا بلھے شاہ نے دیکھا کہ ایک نورانی محفل ہے اور اس نورانی محفل میں بڑے بڑے بزرگ موجود ہیں اچانک مجلس پر ایک مسحور کن خوشبو چھا گئی اور آپ نے ایک نورانی پیکر کو دیکھا اور پھر بتایا گیا یہی آقائے دو جہاں حضور نبی کریم ﷺ ہیں۔
فجر کی نماز کے وقت حضرت بابا بلھے شاہ تیزی سے مسجد کی جانب بڑھے او ر سیدھے مرشد پاک کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ فجر کی نماز میں ابھی وقت تھا اور مرشد پاک تہجد کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تھے۔ جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو مسکرا دیئے۔ آپ نے آگے بڑھ کر مرشد پاک کے پیروں کو پکڑ لیا اور مرشد پاک سے لپٹ کر رونے لگے۔
آپ کے مرشد پاک نے آپ کے سر پر ہاتھ پھیرتے جا رہے تھے اور کچھ دیر بعد مرشد پاک نے فرمایا:
بیٹا عبداللہ! اللہ کبیر و علیم نے اس عاجز بندے کی لاج رکھ لی اور تمہیں اس نعمت سے بڑ کر عطا فرمایا جس کی تمنا تم کر رہے تھے، تم تو مدینہ طیبہ کی زیارت کی تمنا کر رہے تھے اور اس قادر المطلق نے تمہیں مدینے والے کی زیارت عطا فرمائی، تم تو رات ہی میں مفلسی سے تونگری کی طرف آ گئے اور میرے بیٹے اس کی حفاظت کرنااور حضور نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرنا یاد رکھو جس نے ان کی سنت پر عمل نہیں کیا وہ زندگی بھر سفر میں رہنے کے باوجود بھی منزل پر نہیں پہنچا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

Baba Bulleh Shah Poetry in Punjabi top collection 04

Baba Bulleh Shah Poetry in Punjabi top collection 04 First of all thanks for landing

Baba Bulleh Shah Poetry in punjabi top Collection 03

Baba Bulleh Shah Poetry top Collection 03 First of all thanks for landing this article,

Baba Bulleh Shah Poetry top Collection 02

Baba Bulleh Shah Poetry top Collection 02 First of all thanks for landing this article,

Baba Bulleh Shah Poetry Best Collection

Baba Bulleh Shah Poetry Best Collection First of all thanks for landing this article, if

واقعہ حضرت بابا بلھے شاہ ایک سکھ سپاہی کی مدد کرنا

حضرت بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا زمانہ سیاسی انتشار سے بھر

بابا بلھے شاہ ؒ کی اپنے مرشد سے محبت اور خاندان سے اختلاف

حضرت بابا بلھے شاہ (رحمتہ اللہ علیہ) کی ہمشیرگان اور دیگر اہل خانہ نے

حضرت بابا بلھے شاہؒ کا اپنے مرشد تک سفر

حضرت بابا بلھے شاہ کو آپ کے جد امجد سید عبدالحکیم کی زیارت حضرت

حضرت بابا بلھے شاہ کی پانڈو کے منتقلی

حضرت سخی شاہ محمد درویش کو ملکوال میں آباد ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں

حضرت بابا بلھے شاہؒ کی ابتدائی زندگی

حضرت بابا بلھے شاہ کا حقیقی نام سید عبداللہ ہے مگر آپ نے بابا