+(92)305 9265985 +(92) 0300 8040571
books4buy info@books4buy.com

Blog Post

حضرت بابا بلھے شاہ کی پانڈو کے منتقلی


حضرت سخی شاہ محمد درویش کو ملکوال میں آباد ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ آپ کو ایک مرتبہ پھر وہاں سے ‘پانڈو کے’ نامی گائوں میں منتقل ہونا پڑا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک صاحب ثروت چوہدری پانڈو اکثر تلو نڈی گائوں سے ملکوال اپنے عزیزوں کے ہاں آیا کرتا تھا اور یہ تلو تنڈی گائوں ملکوال سے قدرے فاصلہ پر واقع تھا۔ چوہدری پانڈو نے تلو نڈی کے نزدیک ایک وسیع قطعہ اراضی پر ایک گائوں بسایا تھا جو اس کے نام سے منسوب تھا۔
چوہدری پانڈو ہر مرتبہ یہ سوچ کر حضرت سخی شاہ محمد درویش کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا کہ آپ سے کہوں گا کہ آپ میرے ساتھ میرے گائوں چلیں اور وہیں پر مستقل سکونت اختیار کریں۔ ایک دن وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔
حضور! میں نے اپنے گائوں پانڈو کے میں ایک عالیشان مسجد تعمیر کروائی ہے مگر افسوس کا پہلو یہ ہے کہ مجھے وہاں کے لئے ابھی تک کوئی جید عالم دین اور درویش نہیں مل سکا جو مسجد کا انتظام اور امامت سنبھالے اور اس مسجد کو آباد کرے، ان حالات میں میں نے آپ کے وعظ کو سنا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ اگر آپ میرے ساتھ میرے گائوں میں جا کر امامت کے فرائض سنبھال لیں تو میرے لئے عین سعادت ہو گی اور میرے گائوں والوں کے لئے نعمت عظمیٰ سے کم نہ ہو گی اور میں اسے اپنی بڑی خوش قسمتی سمجھوں گا۔حضرت سخی شاہ محمد درویش نے جب چوہدری پانڈو کی بات سنی تو اس سے فرمایا۔ چوہدری صاحب! یہ سعادت کیسی ہو گی؟ چوہدری پانڈو نے عرص کیا۔ حضور ! اس طرح مجھے آپ کی خدمت کے علاوہ روحانی فیض بھی ملے گا اور ہو سکتا ہے کہ آپ کے وسیلہ سے میری آخرت سنور جائے۔ حضرت سخی شاہ محمد درویش نے فرمایا: چوہدری صاحب! فیض کے حصول کے لئے یہاں کا قائم کردہ یہ مدرسہ ہی کافی ہے اور یہاں کسی پر کوئی پابند ی نہیں کہ یہاں کون آئے اور کون جائے پھر ایسی کونسی پریشانی ہے جو تم اس طریقے سے بات کر رہے ہو؟ چوہدری پانڈو نے عرض کیا۔
حضور! میرا گائوں یہاں سے چالیس پچاس کوس دور ہے اور وہاں سے روزانہ یہاں آنا بے حد مشکل ہے اس کے علاوہ میرا گائوں، اس گائوں سے بڑا ہے اور وہاں کی ذمہ داریاں سنبھالنا بھی ایک مسئلہ ہے ایسے میں یہ مناسب ہو گا کہ آپ وہاں تشریف لے چلیں تو آپ کی برکت سے میرے گائوں کی قسمت سنور جائے گی اور میں بھی آپ کی صحبت سے فیضاب ہوتا رہوں گا اور یوں آپ کی روزانہ زیارت سے میری قلبی حالت بھی سنور جائے گی۔آپ نے چوہدری پانڈو کی بات سنی تو اس سے فرمایا: چوہدری صاحب! حصول علم کے لئے طالب نے ہمیشہ دور دراز کا سفر کیا ہے اور فیض و تعلیم سے بہرہ مند ہوئے ہیں اگر تمہیں اس قدر شوق ہے تو تم بھی روزانہ یہاں آ کر فیض پا سکتے ہو اور اس معاملے میں بے شمار اللہ والوں کی مثالیں تمہارے سامنے ہیں۔
چوہدری پانڈو نے آپ کو قائل کرنے کی کوشش کی اور عرض کیا۔ حضور ! اگرچہ یہ بات درست ہے اور میرے لئے آپ کی بات سے اختلاف کرنا ممکن نہیں لیکن آپ جانتے ہیں پورے گائوں کی ذمہ داریاں میرے کندھوں پر ہیں اور وہاں سے روزانہ میری غیر حاضری سے بے شمار مسائل پیدا کر سکتی ہے جن سے عہدہ برا ہونا میرے لئے مشکل ہو جائے گا اگر پ میرے ساتھ وہاں تشریف لے چلیں گے تو میں سکون کے ساتھ گائوں کے تمام مسائل سے عہدہ برا ہو سکوں گا۔
آپ نے فرمایا: چوہدری صاحبً ذرا سوچیے یہاں اس مدرسے سے علم حاصل کرنے والوں کا کیا ہو گا اگر میں یہاں سے منتقل ہو گیا تو کیا ان لوگوں پر علم کے دروازے بند ہو جائیں گے اور پھر یہ لوگ سکون کہاں سے حاصل کریں گے؟ چوہدری پانڈو نے آپ کے جواب کے بعد بھی اپنا اصرار جاری رکھا تو بالآخر آپ نے نیم رضا مندی کا اظہار کیا۔ چوہدری نے عرض کی کہ حضور آپ یہاں اپنا کوئی شاگر مقرر فرما دیں میں یہاں کے تمام اخراجات ذاتی طور پر برداشت کروں گا اور یوں آپ کو نہ تو کسی قسم کی شکایت کا موقع ملے گا اور نہ ہی یہاں کے لوگوں کو حصول تعلیم میں کسی قسم کی تکلیف برداشت کرنا پڑے گا۔ چوہدری پانڈو کے اصرار اور تمام تر ذمہ داریوں کو نبھانے کے وعدہ پر حضرت سخی محمد دریش نے اپنے ایک ہونہار شاگرد کو ملکوال کے اس مدرسہ میں معلم مقرر فرمایا اور خود پانڈو کے تشریف لے گئے جہاں چوہدری پانڈو کی ہر بات کو سچ پایا اور چوہدری پانڈو نے آپ سے کئے وعدہ کو پورا کیا۔
حضرت سخی شاہ محمد درویش نے پانڈو کے میں علم و حکمت کے موتی لٹانے شروع کیے اور طالبان حق کی ایک کثیر تعداد آپ کی صحبت سے فیضیاب ہونے لگی۔
پانڈو کے جانے سے قبل آپ کا سلسلہ درس و تدریس ملکوال میں جاری و ساری تھا آپ نے اپنے فرزند حضرت بابا بلھے شاہ کی ابتدائی تعلیم و تریبت اپنے ذمہ لی اور نہایت خوش اسلوبی سے ان کی تربیت شروع کی۔ آپ نے حضرت بابا بلھے شاہ سے فرمایا:
وہ آئمہ کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے جب پڑھائی سے فارغ ہوں تو مویشیوں کو چرایا کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

Baba Bulleh Shah Poetry in Punjabi top collection 04

Baba Bulleh Shah Poetry in Punjabi top collection 04 First of all thanks for landing

Baba Bulleh Shah Poetry in punjabi top Collection 03

Baba Bulleh Shah Poetry top Collection 03 First of all thanks for landing this article,

Baba Bulleh Shah Poetry top Collection 02

Baba Bulleh Shah Poetry top Collection 02 First of all thanks for landing this article,

Baba Bulleh Shah Poetry Best Collection

Baba Bulleh Shah Poetry Best Collection First of all thanks for landing this article, if

واقعہ حضرت بابا بلھے شاہ ایک سکھ سپاہی کی مدد کرنا

حضرت بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا زمانہ سیاسی انتشار سے بھر

حضرت بابا بلھے شاہ ؒ کی حضور داتا گنج بخش ؒ کے مزار پر حاضر

لاہور میں حضرت عنایت قادری کی خانقاہ میں قیام کے دوران حضرت بابا

بابا بلھے شاہ ؒ کی اپنے مرشد سے محبت اور خاندان سے اختلاف

حضرت بابا بلھے شاہ (رحمتہ اللہ علیہ) کی ہمشیرگان اور دیگر اہل خانہ نے

حضرت بابا بلھے شاہؒ کا اپنے مرشد تک سفر

حضرت بابا بلھے شاہ کو آپ کے جد امجد سید عبدالحکیم کی زیارت حضرت

حضرت بابا بلھے شاہؒ کی ابتدائی زندگی

حضرت بابا بلھے شاہ کا حقیقی نام سید عبداللہ ہے مگر آپ نے بابا