+(92)305 9265985 +(92) 0300 8040571
books4buy info@books4buy.com

Blog Post

حضرت موسیٰ علیہ السلام پارٹ ون


معزز خواتین و حضرات ہم لائیں آپ کے لئے اسلامی معلومات کا خزانہ
یہ سلسلہ انشاء اللہ جاری رہے گا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام
حضرت موسیٰ علیہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں، آپ کا نسب یوں ہے:
موسیٰ بن عمران بن قاہت بن عاز بن لاوی بن یعقوب بن اسحٰق بن ابراہیم۔
چونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نسب حضرت یعقوب علیہ السلام سے بھی جا ملتا ہے اور یعقوب علیہ السلام کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے اسی لئے آپ کا شمار بنی اسرائیل میں ہوتا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام مبارک قرآن میں 136مرتبہ آیا ہے، آپ علیہ السلام آج سے تقریباً4000 سال قبل مصر کے شہر طیبہ جس کا قدیم نام تھیبس تھا، پیدا ہوئے۔ اب طیبہ کا نام الا قصر ہے، مصر کی تاریخ5000 سال پرانی ہے، یہاں2500 قبل مسیح میں اہرام مصر تعمیر ہوئے، معجم البلدان کے مطابق مصر کا نام مصر بن مصرایم بن حام بن نوح کے نام پر رکھا گیا تھا۔
مصر میں جتنے بھی بادشاہ گزرے ہیں، ان کا لقب فرعون ہوا کرتا تھا، جس طرح روم کے بادشاہوں کا قیصر، فارس کے بادشاہوں کا کسریٰ لقب مشور تھا، اسی طرح مصر کے بادشاہوں کا لقب فرع۳ون تھا۔
مصر کے تمام فرعونوں میں سے سب سےز یادہ ظالم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا فرعون تھا جو کہ اس زمانے میں رعمیس دوم کے نام سےمشہور تھا، حضرت یوسف علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے زمانوں میں پائے جانے والوں فرعونوں کے درمیان400سال کا فاصلہ ہے۔
تعارف فرعون مصر
مصر سے حالیہ ملنے والے کتبات سے اب یہ امر واضح ہو گیا ہے کہ (جس فرعون کے زمانہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے اور جس کی آغوش میں آپ علیہ السلام نے پرورش پائی (وہ رعمیس دوم) تھا، رعمیس دوم اس زمانہ میں بہت معمر اور مسن ہو چکا تھا اس لئے اس نے اپنی زن دگی میں ہی اپنے بیٹے منفتاح کو شریک حکومت کر لیا تھا اور یہی اس کے بعد تخت و تاج کا مالک ہوا، منفتاح رعمیس دوئم کی ڈیڑھ سو اولادوں میں سے تیرھواں لڑکا تھا، بنی اسرائیل کے مصر سے خروج کے وقت یہی منفتاح وہ فرعون تھا جو غرق ہوا۔
رعمیس دوم کا تعلق مصر کے انیسویں حکرمان خاندان سے ہے۔ یہ شاہ سیتی دوم کا تعلق مصر کے انیسویں حکمران خاندان سے ہے۔ یہ شاہ سیتی کا بیٹا تھا اور اس کی وفات کے بعد تخت پر بیٹھا۔ رعمیس دوم نے اپنے67 سالہ دور حکومت میں شام پر متعدد کامیاب حملے کئے اور بہت سی شاندار عمارتیں تعمیر کرائیں اور کچھ نئے شہر بھی بسائے، اس نے ایک شامی شہزادی سے شادی کی جس کا نام ارمات نیفیر اراع رکھا گیا، اس کی متعدد ازواج میں سے ایک اور زوجہ کا نام ہینت ماراع تھا،جس کا مجسمہ رعمیس دوم کے مجسمہ کے ساتھ ابو کر کے مقام پر کھدائی میں برآمد ہوا ہے۔ رعمیس دوئم کی حنوط شدہ لاش انیسویں صدی کے اواخر میں باب الملوک کی وادی کی کھدائی میں برآمد ہوئی ہے، یہ لاش ایک چوبی تابوط میں رکھی ہوئی تھی، اس پر تین کتبے کندہ تھے، پھر بھی بعض ماہرین آثارِ قدیمہ کو اس بارے میں کچھ شک تھا کہ یہ واقعی رعمیس دوئم کی لاش ہے۔بالآخر رفع شک کی خاطر میپیرو نے اوپر لپٹے ہوئے کپڑے کو ہٹایا اور لاش کے سینے کے کفن پر روشنائی سے لکھا ہوا ایک واضح کتبہ دیکھا جس نے ہمیشہ کے لئے ان شکوک کا خاتمہ کر دیا اور قطعی طور پر یہ ثابت کر دیا کہ یہ رعمیس دوئم ہی کی لاش ہے، یکم جون1886ء کو خدیو توفیق کی موجودگی میں اس لاش کو کھولا گیا۔ یہ لاش اب قاہرہ کے عجائب خانے میں محفوظ ہے۔
رعمیس دوئم نے تقریباً110سال کی عمر پائی تھی اور بیمار ہو کر فطری موت مرا یہی وجہ ہے کہ اس کا جسم نہایت لاغر اور کمزور ہے برخلاف اس کے کہ اس کے بیٹے منفتاح نے اچانک بحر قلزم میں غرق ہو کر جان دی یہی وجہ ہے کہ وہ تنو مند اور صحت مند نظر آتا ہے اور اس کی لاش سے بیماری کے کوئی آثار ظاہر نہیں ہوتے۔
اطلس القرآن کےمصنف نے فرعون کے حوالہ سے لکھا ہے کہ:
یہاں یہ بات اور جان لینی چاہیے کہ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے کے سلسلے میں دو فرعونوں کا ذکر آتا ہے ایک وہ جس کے زمانہ میں آپ علیہ السلام پیدا ہوئے اور جس کے گھر میں آپ علیہ السلام نے پرورش پائی، دوسرا وہ جس کے پاس آپ علیہ السلام اسلام کی دعوت اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ لے کرپہنچے اور جو بالآخر غرق ہوا ۔ موجودہ زمانہ کے محققین کا عام میلان اس طرح ہے کہ پہلا فرعون رعمیس دوم تھا جس کا زمانۂ حکومت1292سے1235 قبلع مسیح تک رہا اور دوسرا فرعون منفتہ یا منفتاح تھا جو اپنے باپ رعمیس دوم کی زندگی میں ہی شریک حکومت ہو چکا تھا اور اس کے مرنے کے بعد سلطنت کا مالک ہوا۔ یہ قیاس بظاہر اس لحاظ سے مشتبہ معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی تاریخ کے حساب سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سن وفات1272 قبل مسیح ہے۔ لیکن بہر حال یہ تاریخ قیاسات ہی ہیں اور م صری اسرائیلی اور عیسویں جنتریوں کےمطابق بالکل صحیح تاریخوں کا حساب لگانا مشکل ہے۔
لہٰذا منفتاح ہی وہ فرعون ہے جس کو حضرت موسیٰ علیہ السلام و حضرت ہارون علیہ السلام نے دعوت دی اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ کیا اور یہی دریا میں غرق ہوا، توریت میں ہے کہ خروج سے پہلے مصر کے بادشاہ کا انتقال ہوگیا اس سے مراد ہی رعمیس دوم ہے جو منفتاح کا باپ تھا۔
۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ دیکھئے پارٹ2 میں
ہم لائے ہیں آپ کے لئے اسلامی کتابوں کا خزانہ اگر آپ اسلامک کتابیں پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں تو اسلامک بکس کی فہرست حاصل کرنے کے لئے اس نمبر پر رابطہ کریں۔۔۔۔۔۔۔
03059265985
we provide best article on islam please stay with us to continue
hazrat moosa story in urdu


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *