+(92)305 9265985 +(92) 0300 8040571
books4buy info@books4buy.com

Blog Post

مجھے کیوں نکالا؟


اسد اللہ خان کی کتاب مجھے کیوں نکالا؟ پر ایک نظر
اسد اللہ خان کا شمار الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مسلسل لگن ، محنت، تحقیق اور منطق سے سیاسی و سماجی معاملات کو اپنے قلم اور زبان سے بیان کیا۔
یہ کتاب پاکستان میں جہاں نواز شریف کی تین حکومتوں میں فوج کے ساتھ ان کے تعلقات پر بحث ہے، وہیں یہ کتاب سول ملٹری تعلقات پر حقائق و تحقیق کی بنیاد پر ایک دلچسپ دستاویز بھی ہے۔
ستر سال سے پاکستان میں فوج اور سیاستدانوں کے بیچ ایک جنگ جاری ہے، عدلیہ اور پارلیمنٹ سمیت دیگر ادارے اس جنگ میں بطور ہتھیار استعمال ہوئے ہیں، کبھی ایک کے ہاتھ میں اور کبھی وہی ہتھیار دوسرے کے ہاتھ میں ۔ ایسی قومیں کب پنپتی ہیں، جہاں ادارے بازیچہ اطفال ہوں۔
نواز شریف کو ایک نہیں تین بار نکالا گیا۔ انہوں نے بطور وزیر اعظم آٹھ آرمی چیفس کے ساتھ کام کیا ، کسی ایک کے ساتھ بھی ان کے تعلقات خوشگوار نہ رہے۔ پورا قصور شاید نواز شریف کا بھی نہیں، وہ جب 1990 میں پہلی بار وزیر اعظم بنے تو اس جنگ کو شروع ہوئے تینتالیس برس ہو چکے تھے، انہیں تو پہلے سے جاری یہ جنگ ورثے میں ملی۔ ہاں البتہ ان کا قصور یہ ہے کہ سب سے زیادہ مواقع ملنے کے باوجود حکمت و تدبر کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ اس دیرینہ لڑائی کو ختم نہ کر پائے بلکہ خود ایک فریق بن گئے۔
یہ کتاب نواز شریف کے تین بار نکالے جانے کا تاریخی مطالعہ بھی ہے اور مشاہدہ بھی۔ یہ ایک کہانی ہے آٹھ آرمی چیفس کے ساتھ اختلافات کی۔ ایک جائزہ ہے نواز شریف کی ناقص سیاسی حکمت عملی کا۔ ایک مشاہدہ ہے نواز شریف کے ضدی، گھمنڈی اور کینہ پرور رویے کا جس نے نواز شریف کو کچھ دیا نہ قوم کو۔ قوم نے انہیں تین بار اقتدار کے ایوان تک پہنچایا اور انہوں نے تینوں بار اپنے مینڈیٹ کو فوج سے لڑنے اور اسے زیر دست کرنے کا عوامی اجازت نامہ تصور کیا۔ اس کتاب میں تینوں ادوار میں ایک ایک کرکے تمام آرمی چیفس کے ساتھ نواز شریف کے اختلافات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ تفصیلی جائزہ ان کے دوسرے دور حکومت کا اس لئے لیا گیا ہے کہ اسی دور کے نتائج نے ان کی سیاسی زندگی پر سب سے زیادہ اثرات مرتب کیے، اس دور میں ہی مارشل لاء لگا، انہیں پہلے جیل اور پھر پردیس جانا پڑا۔ اس باب میں صرف نواز شریف کی غلطیوں کا ہی جائزہ نہیں لیا گیا بلکہ پرویز مشرف کی اقتدار میں آنے کی خواہش اور اس مقصد کے حصول کے لئے ان کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے اور نواز شریف کی جانب سے نہ اٹھائے جانے والے ان اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو اگر وہ اٹھاتے تو پرویز مشرف کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے سے روکا جا سکتا تھا۔
بلاشبہ اس کتاب کا موضوع نواز شریف ہیں ، مگر نواز شریف نے جو کچھ کیا یا جو کچھ ان کے ساتھ ہوا ، وہ پاکستان میں پہلے بھی ہو چکا ہے۔ اس لئے کتاب کے شروع میں 1947ء سے 1990ء تک کے سول ملٹری تعلقات کا ایک جائزہ بھی شامل کیا گیا ہے، خاص طور پر قیام پاکستان کے بعد کے پہلے آٹھ سال جن کی وجہ سے پہلی بار فوج کو اقتدار میں آنے کا موقع ملا جو اگر سیاستدانوں کی جانب سے ڈھنگ سے گزارے گئے ہوتے تو شاید کہانی ہی مختلف ہوتی۔ اس لئے ضروری سمجھا گیا کہ کتاب کے شروع میں ابتدائی سیاسی تاریخ کا مختصر جائزہ بھی پیش کر دیا جائے۔
اگر آپ یہ کتاب خریدنے کے لئے
ہمارے پیج پر مسیج کریں
اپنا نام۔ ایڈریس۔ فون نمبر ۔ کتاب کا نام لکھ کر پیج پر مسیج کریں۔ وٹس اپ کریں یا دیئے گئے نمبرز پر رابطہ کریں۔
0305-9265985, 0341-1400930

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *