+(92)305 9265985 +(92) 0300 8040571
books4buy info@books4buy.com

Blog Post

واقعہ حضرت بابا بلھے شاہ ایک سکھ سپاہی کی مدد کرنا


حضرت بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا زمانہ سیاسی انتشار سے بھر پور تھا اور مغل فرنروا اورنگ زیب عالمگیر وفات پا چکا تھا اور اس کی وفات کے بعد پورے ملک میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص خانہ جنگی کی آگ بھڑک اٹھی تھی اور سکھ پنجاب پر اپنا اقتدار قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ اس پر آشوب دور میں دو ہزار سکھ سپاہیوں کا ایک دستہ جن کے پاس توپ خانہ بھی تھی ملتان کی جانب حملہ کرنے کی غرض سے رواں دواں تھا۔ سکھ سپاہیوں کا یہ جتھہ جب موضع متکے نزد رائے ونڈ پہنچا تو اس نے وہاں پڑائو ڈالا۔ اس جتھہ میں ایک سکھ سپاہی جو موضع گھونڈ کا رہنے والا تھا اس نے اپنے سکھ افسر سے ایک رات کی چھٹی مانگی تا کہ وہ اپنے بیوی بچوں سے مل آئے جو نزدیکی گائوں میں رہتے تھے۔ اس کے افسر نے اسے چھٹی دے دی اور وہ سکھ سپاہی نزدیکی گائوں گھونڈ کی جانب روانہ ہو گیا۔
گھونڈ گائوں تک جانے کا راستہ موضع پانڈو کے میں سے گزرتا تھا اور اس دور میں حضرت بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ پانڈو کے میں مقیم تھے۔ یہ گائوں پانڈو کے بھٹی کی ملکیت تھا اور یہاں کے تمام رنگھڑ بے حد متکبر اور ہٹ دھرم تھے وہ اپنے گائوں سے کسی بھی گھڑ سوار کر گزرنے نہیں دیتے تھے اور ان کا اعلان تھا کہ اگر کسی میں جرات ہے تو وہ ہمارے علاقے میں گھوڑے پر بیٹھ کر گزر کر دکھائے۔ جب وہ سکھ سپاہی گھوڑے پر سوار ہو کر یہاں سے گزرا تو رنگھڑ نوجوان نے اسے گھوڑے سے اتار لیا گھوڑا اس سے چھین لیا اور اس کی خوب پٹائی کی پھر اسے گھسیٹتا ہوا اس جگہ پر لایا جہاں موچی چمڑہ رنگتے تھے۔ انہوں نے سکھ سپاہی کے کیس (بال)کھول ڈالے اور کنویں کا غلیظ پانی اس سے سر اور منہ پر ڈالا حتیٰ کہ اسے بری طرح ذلیل کیا گیا۔ اس دن گائوں کا چوہدری پانڈو اتفاقاً گائوں میں موجود نہ تھا۔ یہ ہنگامہ آرائی دیکھ کر حضرت بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ آگے بڑھے اور سکھ سپاہی کو اس رنگھڑ نوجوان سے چھڑایا اس کو اس کے گھوڑے پر سوار کرایا اور اسے گائوں کی حدود سے دوسری جانب چھوڑآئے اور کہا تم جائو میرے ساتھ جو ہو گا دیکھا جائے گا۔
حضرت بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ اس سکھ سپاہی کو چھوڑ کر واپس آئے تو گائوں کے تمام رنگھڑ آپ کے مخالف ہو گئے انہوں نے آپ پر الزام لگایا کہ آپ نےایک غیر مسلم کی حمایت کی ہے۔ اتنے میں گائوں کا سردار چوہدری پانڈو بھی آن پہنچا۔ اس نے بغیر کسی صلاح و مشورہ کے یہ فیصلہ دے دیا کہ آپ کو پتھر مار مار گائوں بدر کر دیا جائے۔ تا ہم گائوں کے لوگوں کی اکثریت جو آپ کے تقویٰ ک بدولت آپ کا بڑا احترام کرتی تھی ان میں سے کوئی بھی آ پ کو پتھر مارنے پر راضی نہ ہوا۔ چوہدری پانڈو اور سدھار کی اولاد نے آپ کو پتھر مارنے شروع کیے اور اگرچہ اس وقت شیخو نامی ایک شخص کی بروقت امداد سے آپ کی جان بچ گئی لیکن آپ کچھ پتھر لگنے سے زخمی ضرور ہو گئے۔ یہ شیخو چوہدری پانڈو کا داماد تھا اور آپ کا بڑا ارادت مند تھا۔
اس ناخوشگوار واقعہ سے دلبرداشتہ ہو کر حضرت بابا بلھے شاہ پانڈو کے سے موضع دفتوہ چلے گئے جو پانڈو کے سے صرف دو میل کے فاصلے پر واقع ایک گائوں ہے۔ اس وقت آپ کے والدین اور ہمشیرگان وفات پا چکے تھے۔گائوں کے چند معززین نے باہم مشورہ کیا اور چوہدری پانڈو کے پاس جا کر کہا کہ حضرت بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے والد ہمارے پیش امام رہ چکے ہیں اور سید بھی ہیں اور ان کی نجابت و شرافت بھی کسی شک و شبہ سے بالا تر ہے جب ارد گرد کے لوگ سنیں گے تو کیا کہیں گے چوہدری پانڈو کس قدر بد لحاظ اور ناقدر شناس آدمی ہےہ اس نے ایک سید زادے اور عالم زادے کو اپنے گائوں سے نکال دیا ، راجپوتوں اور راٹھوں کا یہ شیوہ نہیں ہے۔پھر ان لوگوں نے فیصلہ کیا کہ موضع دفتوہ جا کر آپ سے معافی مانگی جائے کہ کہیں ایسا نہ ہو وہ جلال میں آ کر کوئی بددعا دیں اور ہماری تباہی و بربادی ہو جائے۔ اس پر چوہدری پانڈو، سدھار اور شیخو یہ تینوں موضع دفتوہ جا پہنچے اور آپ سے عرض کیا کہ ہم آپ کو لینے آئے ہیں اور آپ واپس گائوں چلیں۔ آپ نے فرمایا۔
ہم اس گائوں کو چھوڑ آئے اب دوبارہ اس گائوں نہیں جائیں گے۔
چوہدری پانڈو نے عرض کیا کہ اگر آپ ہمارے ساتھ واپس گائوں نہیں جائیں گے تو ہم زبردستی اٹھا کر لے جائیں گے۔ حضرت بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ پھر انکار کر دیا اور پھر چوہدری پانڈو نے نہایت بے ادبی کے ساتھ آپ کا بازو پکڑ کر ساتھ چلنے کو کہا۔ آپ نے فرمایا۔
میرا بازو چھوڑ دو ہم نہیں جائیں گے۔
چوہدری پانڈو نے کہا کہ ہم آپ سے کم از کم دعا یا بددعا لے کر ہی لوٹیں گے اور خالی ہاتھ نہیں لوٹیں گے اس پر حضرت بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:
میرے پاس نہ دعا ہے اور نہ بدعا
چوہدری پانڈو بدستور بضد رہا اور تلخ کلامی کے انداز میں بحث و تکرار کرتا رہا اور الٹی سیدھی دھمکیاں بھی دیتا رہا اور اسی طرح آپ کو کھنچتا رہا جس پر آپ نے فرمایا:


بلھا جے تو غازی بننائیں لکھ بنھ تلوار
پہلوں رنگھڑ پانڈو مار کے پچھوں کافر مار
اجڑ گئے پانڈو کے نگھر گیا سدھار
وسدا رہے شیخوپورہ لگی رہے بہار

یہ شیخو پورہ ضلع شیخو پورہ نہیں ہے بلکہ پانڈو کے کا ایک گائوں ہے جو اب بھی آباد ہے اور اسے شیخو کی اولاد نے آباد کیا تھا جس نے آپ کو پتھر مارتے وقت بچایا تھا۔
چوہدریوں کا انجام بد
وہ سکھ سپاہی جسے حضرت با با بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے رنگھڑوں سے بچایا تھا جب اپنے بال بچوں سے مل کر واپس اپنی پلٹن میں آیا تو اس نے تمام واقعہ اپنی پلٹن کو سنایا تب فوج کے تمام افسروں نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ ملتان کی جانب بعد میں چلیں گے پہلے پانڈو کے والوں کی خبر لی جائے۔ اس فیصلہ کے بعد تمام سکھ فوج بلائی گئی اور یہ فوج آسمانی بجلی کی مانند پانڈو کے پر ٹوٹ پڑی جو سامنے آیا اسے قتل کرتے رہے اور جب گائوں کی زمین لوگوں کے خون سے سرخ ہو گئی تو سکھ جتھے نے لوٹ مار شروع کر دی ۔ چوہدری پانڈو کا برا حشر ہوا۔ موضع سدھار کو ایسا زلزلے کا جھٹکا لگا کہ سارا گائوں زمین میں دھنس گیا اور اب اس گائوں کے کھنڈرات موجود ہیں۔ جب چوہدری پانڈو نے اپنے گائوں پر سکھوں کا حملہ دیکھا تو وہ کسی طرح بھاگ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا حضور! میرا تو کچھ رہنے دیں؟ آپ نے فرمایا۔
چوہدری پانڈو! تمہارا اب کچھ نہیں رہا ہاں گائوں کا نام پانڈو کے ضرور رہے گا اور جب تک یہ گائوں رہے گا تمہارا نام قائم رہے گا تا کہ لوگ عبرت حاصل کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

Baba Bulleh Shah Poetry in Punjabi top collection 04

Baba Bulleh Shah Poetry in Punjabi top collection 04 First of all thanks for landing

Baba Bulleh Shah Poetry in punjabi top Collection 03

Baba Bulleh Shah Poetry top Collection 03 First of all thanks for landing this article,

Baba Bulleh Shah Poetry top Collection 02

Baba Bulleh Shah Poetry top Collection 02 First of all thanks for landing this article,

Baba Bulleh Shah Poetry Best Collection

Baba Bulleh Shah Poetry Best Collection First of all thanks for landing this article, if

حضرت بابا بلھے شاہ ؒ کی حضور داتا گنج بخش ؒ کے مزار پر حاضر

لاہور میں حضرت عنایت قادری کی خانقاہ میں قیام کے دوران حضرت بابا

بابا بلھے شاہ ؒ کی اپنے مرشد سے محبت اور خاندان سے اختلاف

حضرت بابا بلھے شاہ (رحمتہ اللہ علیہ) کی ہمشیرگان اور دیگر اہل خانہ نے

حضرت بابا بلھے شاہؒ کا اپنے مرشد تک سفر

حضرت بابا بلھے شاہ کو آپ کے جد امجد سید عبدالحکیم کی زیارت حضرت

حضرت بابا بلھے شاہ کی پانڈو کے منتقلی

حضرت سخی شاہ محمد درویش کو ملکوال میں آباد ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں

حضرت بابا بلھے شاہؒ کی ابتدائی زندگی

حضرت بابا بلھے شاہ کا حقیقی نام سید عبداللہ ہے مگر آپ نے بابا