+(92)305 9265985 +(92) 0300 8040571
books4buy info@books4buy.com

Blog Post

پانچ کانوٹ پہلا افسانہ نوک پلک مصنف شکیل احمد چوہان


پانچ کا نوٹ
آج میں نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کے ہاتھ میں دس روپے کا سکہ دیکھا۔ گزرے ہوئے وقت کا ایک دن یاد آگیا ۔ وقت ہم کو گزارتا ہے یا ہم وقت کو گزارتے ہیں؟یہ سوال تو اپنی جگہ بہر حال رہے گا۔ میں تو یہ جانتا ہوں ہر گزرتا دن بہت کچھ بدل جاتا ہے آپ کی ذات میں بھی اور کائنات میں بھی ۔وقت سے زمانہ ہے اور زمانے سے وقت۔ قدرت نے وقت کے ہر گزرتے لمحے میں بے شمار پیغام رکھے ہیں۔ کسی کو وقت دلشاد کر جاتا ہے اور کسی کو برباد …..کوئی اپنی خصلت سے مجبور ہی رہتا ہے اور کوئی کوئی بدل بھی جاتا ہے۔
اسی طرح وہ پانچ کا نوٹ بھی میری زندگی میں بہت کچھ بدل گیا مثلاًمیرے سوچنے کے زاویے اورمیرے خیالات۔سالوں بعد آج بھی وہ نوٹ میں نے سنبھال رکھا ہے۔ یہ بھی کمال ہے ، کچھ نہ کہہ کر بھی بہت کچھ کہہ جانا۔ اُس دن مجھے اِس بات کی سمجھ آئی کسی کو لاجواب کرنے کے لیے زبان سے جواب دینا ضروری نہیں ہوتا اور ایک ہم ہیں سارا دن عدالت میں دلیلیں دے دے کر ہلکان ہو جاتے ہیں اور جج کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اِسی طرح ٹی وی ٹاک شو زدیکھتے ہوئے سیاسی قائدین کے چیلے چپاٹے اپنے قائد کی شان میں لمبے چوڑے قصیدے بیان کر رہے ہوتے ہیں وہTVپر بیٹھ کر سینہ چوڑا کرکے کروڑوں لوگوں کے سامنے جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں ،نا جانے ہم کب سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ مانیں گیں …..؟
آج میں شہر کا بہت مشہور اور بڑا وکیل ہوں ۔یہ قصہ اُن دنوں کا ہے جب کالج میں پڑھتا تھا ۔میرے ایک دوست کی ٹانگ ٹوٹ گئی میں اُس کی تیمار داری کرنے جناح ہاسپٹل پہنچا ۔ حال احوال کے دوران وقت کا پتا ہی نہیں چلا۔ جب گھڑی پر نظر پڑی تو رات کے دس بج رہے تھے۔ میں نے دوست سے اجازت لی اور ہاسپٹل سے نکل آیا۔دسمبر کا مہینا تھا سردی اتنی زیادہ تھی کہ دانت خود ہی حکومت اور اپوزیشن کی طرح ٹکرا رہے تھے۔ میں اسٹیشن پر جانے کے لیے ویگن کے انتظار میں اسٹاپ پر کھڑا تھا چند منٹ بعد سردی کی وجہ سے میری ٹانگیں خود بہ خود تھرکنا شروعہوگئیں۔ پاس ہی ایک ڈھابا تھا وہاں پر چائے والے نے بلند آواز میں ملکہ ترنم نور جہاں کے پنجابی گانے لگا رکھے تھے اور خودچائے بنانے میں مصروف تھا۔ ’’سُن وے بلوری اکھ والیا….. آساں دل تیرے نال لا لیا۔‘ ‘میں چائے پینے کی غرض سے ڈھابے پر پہنچا۔ چائے پینے کے بعد اپنی جیب سے اکلوتا سو کا پھُس پھُسا سا نوٹ نکالا ، جو میلا بھی تھا اور پھٹا ہوا بھی ۔
نوٹ پھٹ جائے تو کوئی بات نہیں ، اُس کے اوپر قائد کی تصویر نہیں پھٹنی چاہیے،.جیسے ہی وہ نوٹ چائے والے کو دیاوہ اُسے اُلٹ پلٹ کر دیکھنے لگا پھر میرے چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے مجھے واپس کرتے ہوئے اشارہ کیا کہ یہ نوٹ نہیں چل سکتا۔ وہ اپنے ڈیک کا والیم کم کرنے کے موڈ میں نہیں تھا اِس لیے اُس نے اشارے ہی سے کام چلا یا۔ میں نے بھی اُسے اشاروں ہی سے بتا دیا کہ میرے پاس یہی اکلوتا نوٹ ہے لینا ہے تو لو نہیں تو تمھاری مرضی ۔چائے والا مسکرایا اور نوٹ تھام کر اندر جاتے ہوئے میری توجہ چولہے پر پکتی چائے کی طرف دلوائی کہ خیال رکھنا اُبل نہ جائے ۔ تھوڑی دیر بعد واپس آیا اور مجھے90روپے تھما دیے ۔وہ سب دس دس کے نوٹ تھے۔چائے تو نہیں اُبلی وہ نوٹ دیکھ کر میں ضرور اُبل گیا ۔ اُن نوٹوں کے مقابلے میں میرا نوٹ صاف ستھرا تھا اور صحت مند بھی ۔وہ نوٹ ہو کر بھی شکل سے غریب اور مفلس ہی لگ رہے تھے۔ میں نے چپ چاپ وہ نوٹ اپنے کوٹ کی سامنے والی پاکٹ میں رکھ لیے اور ویگن سٹاپ کی طرف چل پڑا۔
ویگن آئی اُس میں بیٹھا چل پڑی اُس کا آخری سٹاپ لاہور کا ریلوے اسٹیشن تھا۔ کنڈکٹر پچاس پچپن کے لگ بھگ تھا جس نے اپنے بالوں کی سفیدی منہدی کی رنگت سے چھپائی ہوئی تھی۔ پان کھا کھا کر اُس کے دانت ڈارک براؤن ہو چکے تھے۔ صحت کے معاملے میں بھی اُس کا ہاتھ تنگ ہی تھا۔ اُس نے بے شمار پاکٹوں والی موٹی سی جیکٹ پہن رکھی تھی ۔اگر میں اُسے جیکٹ کے بغیر دیکھتا تو شاید اُس کی صحت دیکھ کر اُسے کوئی لقب دے دیتا ۔ویگن میں پہلے سے کوئی چھے سات لوگ ہوں گے جو اپنی اپنی سوچوں میں غرق تھے۔ ابھی تھوڑا سا سفر ہی طے کیا تھا کہکنڈکٹر نے اپنے مخصوص انداز سے ہاتھ کا اشارہ کیا کدھر ؟میں نے بھی اُسے بتایا آخر تک، پھر اُس نے اپنے انگوٹھے اور انگوٹھے کی پڑوسن انگلی کی مدد سے نوٹ گننے کا اشارہ کیا۔ اُس کا مطلب تھا کرایہ دو۔ میں نے وہ 9کے 9 غریب نوٹ اپنی جیب سے نکالے اور کنڈکٹر کے سامنے انہیں چیک کرنے لگا وہ کنڈکٹر مسلسل بڑی سنجیدگی سے مجھے دیکھ رہا تھا ۔میں نے اُن نوٹوں میں سے جو سب سے بری حالت میں تھا وہ نکال کر کنڈکٹر کے حوالے کیا۔ کنڈکٹر نے نوٹ تھاما تواُس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ اُس نے اپنی جیکٹ کی اندرونی جیب سے نوٹوں کی ایک گڈی نکالی اور کچھ تلاش کرنے لگا ۔جب اُسے کچھ نہ ملا تو اُس نے میرا دیا ہوا نوٹ اپنے نوٹوں کے بیچ میں بڑی احتیاط سے رکھ دیا کہیں نوٹ کوکوئی نیا زخم نہ لگ جائے پھر اُس نے دوسری پاکٹ میں ہاتھ ڈالا اور چھوٹے بڑے نوٹوں کی دوسری گڈی نکالی اور اُس میں سے کچھ تلاش کرنے لگا اب میں مسلسل اُسے دیکھ رہا تھا مجھے چائے والا یاد آگیا تھا۔ میں نے سوچا اب یہ کنڈکٹر بھی میرے ساتھ ویسا ہی کچھ کرنے والا ہے۔
کنڈکٹر نے وہ گڈی بھی واپس اُسی پاکٹ میں ڈال دی ۔وہ کچھ یاد کر رہا تھا اورجلد ہی اُسے یاد آگیا ۔اُس نے اپنی جیکٹ کی دل کی جانب لگی ہوئی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک کڑکتا، اُجلا، نیا نکور نوٹ نکال کر بڑے ادب سے مجھے ایسے پیش کیا جیسے کوئی غلام اپنے آقا کو کوئی تحفہ پیش کرتا ہے۔اُس نے ایک لمحے میں اخلاق کی بلندی کو چھو لیا ۔ اُس نے کچھ بھی نہیں کہا اور سب کچھ کہہ گیا ۔سارے راستے میرے اور اُس کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔ آج بھی وہ غریب شکل و صورت کا بندہ میری نظر میں کسی شہنشاہ سے کم نہیں ۔ کتنے ہی سال ہوگئے اِس بات کو آج تک اُس کا چہرہ مجھے نہیں بھولا۔ جب میں نے اُسے 10کا نوٹ دیا اُس کے چہرے پر بڑی پیاری مسکراہٹ تھی اور جب میں نے اُس کے ہاتھ سے پانچ کا نوٹ تھاما تو میں شرم سے پانی پانی تھا۔ اُس کنڈکٹر نے مجھے کچھ نہ کہہ کے بھی اپنے اخلاق سے بہت کچھ سمجھا دیا۔ میں اُس نوٹ کو تحفہ سمجھتا ہوں اور وہ تحفہ میں نے آج بھی سنبھال کر رکھا ہے وہی
’’پانچ کا نوٹ‘‘
یہ افسانہ شکیل احمد چوہان کی کتاب نوک پلک میں سے لیا گیا ہے اگر آپ نوک پلک خریدنا چاہتے ہیں تو
دیئے گئے نمبر پر مسیج وٹس اپ یا کال کریں
03059265985
books4buy.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

Afsana Fay From Nook Palak by Shakeel Ahmad Chohan in Urdu

First of all thanks for landing this article, if you are searching for Afsana

کنڈی نا کھولنا کہانی نوک پلک شکیل احمد چوہان

معزز خواتین و حضرات ہم حاضر ہیں شکیل احمد چوہان صاحب کی کتاب نوک