+(92)305 9265985 +(92) 0300 8040571
books4buy info@books4buy.com

Blog Post

کنڈی نا کھولنا کہانی نوک پلک شکیل احمد چوہان


معزز خواتین و حضرات ہم حاضر ہیں شکیل احمد چوہان صاحب کی کتاب نوک پلک کی ایک اور کہانی کے ساتھ جس کا عنوان ہے
کنڈی نا کھولنا۔۔۔۔ اس سے پہلے آپ ایک پڑھ چکے ہیں “پانچ کا نوٹ” چلیے وقت ضائع کیے بغیر اپنی اگلی کہانی کی طرف بڑھتے ہیں۔
کنڈی نا کھولنا ۔۔۔ شکیل احمد چوہان
پرانے وقتوں کی بات ہے۔ وہ پُوکے جھاڑے کی ایک رات تھی۔ عشا کی نماز کے بعد گاؤں کے بڑے بوڑھے اپنے اپنے لحافوں میں گھُسے پڑے تھے۔ سردی اتنی کہ دانت سے دانت ٹکرا رہے تھے۔ چودھری جہانگیر کے ڈیرے پر دیسی کیکر کے کوئلے انگیٹھی میں دہک رہے تھے، جس کی وجہ سے وہ بڑا سا کمرا قدرے گرم تھا۔ کچھ کوئلوں کی تپش باقی سانسوں کی حرارت ،ماحول تو بہتر ہونا ہی تھا۔ اتنے میں منگتوچینی کے پیالوں میں گرم چائے لے کر آگیا، سب سے پہلے اُس نے چودھری جہانگیر کو چائے کا پیالہ پیش کیا چودھری جہانگیر نے گاؤ تکیے پر اپنی کُہنی رکھتے ہوئے اپنے آپ کو اُوپر کی طرف اُٹھایا، حقے کی نلی ایک طرف کی اور منگتو کے دونوں ہاتھوں سے وہ چائے کا پیالہ اُٹھا لیا۔ منگتو نے چودھری جہانگیر کی رضائی خود ہی اوپر کی طرف کرتے ہوئے اپنی خدمت گزاری کا ثبوت پیش کیا۔اُس کے بعد منگتو نے نجی لوہار، تاجو کمہار، ناظر ترکھان، مولوی صادق، سُودا نائی، آبی بیوپاری اور کالے موچی سے ہوتے ہوئے دوسرے لوگوں کو بھی چائے دی۔
چائے پکڑتے ہوئے بابے خیرے نے منگتو سے پوچھا:
“وڈے چودھری جی کہاں ہیں۔۔؟”
وڈے چودھری جی….. آپا کے سسرال گئے ہیں، کل یا پرسوں آئیں گے۔
اچھا….. بابے خیرے نے کانپتے ہاتھوں سے چائے کی چسکی لیتے ہوئے صرف ایک لفظ کہا۔
چودھری جی! وہ مَج (بھینس) بڑی ہی سوہنی تھی۔ آبی بیوپاری نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا۔
اب کھُول مت لانا۔‘‘منگتو نے جلدی سے کہہ دیا سب ہنس پڑے۔
کھولنے کا کام تو کالے کا ہے۔ ناظر ترکھان نے ہنستے ہنستے کہا ۔ کالے موچی نے ناظر ترکھان کو گھُورتے ہوئے جواب دیا:
تیرے پاس کون سی مَج ہے جو میں کھولوں گا۔۔؟‘‘
کالے نے سچی پکی توبہ کر لی ہے…..اب تو یہ پنج ویلے مسیت (پانچ وقت مسجد) میں آتا ہے۔‘‘ مولوی صادق نے کالے موچی کی تعریف کی۔
مولوی صادق! کچی مٹی پکنے کے بعد نہیں بدلتی۔‘‘ تاجو کمہار نے اپنے تجربے کی بات بتائی۔
لوہار کی پٹھی کے پاس بیٹھو گے تو کپڑے تو جلیں گے نا۔ نجی لوہار نے اپنی سُنا دی۔
نجی کھل کر بات کر….. چودھری جہانگیر نے چائے کی آخری چسکی لینے کے بعد کہا۔ منگتو نے دونوں ہاتھوں سے خالی پیالہ چودھری کے ہاتھ سے لیا۔
چودھری جی! کالے کی بیٹھک اب بھی دریا پار کے چوروں کے ساتھ ہے۔ نجی لوہار نے اپنی بات کی وضاحت کی۔ نجی کے ساتھ بیٹھتے ہوئے سُودے نائی کو بے چینی ہو رہی تھی کیونکہ اِس ساری گفتگو میں اب تک اُسے اپنے خیالات کے اظہار کا موقع نہیں ملا تھا وہ جلدی سے بول پڑا:
چودھری جی! دیگ کچی ہے یا پکی وہ پتا کرنے کے لیے چاول کا ایک دانہ ہی کافی ہوتا ہے۔
ایک دوسرے کے کپڑے اُتارتے رہتے ہو کبھی مسیت میں بھی آجایا کرو…..فجرے (صبح) ہم چار پانچ بندے ہی ہوتے ہیں، مسیت میں ۔چودھری جہانگیر نے کچھ خفگی سے کہا ۔

آنکھ ہی نہیں کھُلتی….. چودھری جی!‘‘ ناظر ترکھان نے جلدی سے کہا۔ آبی بیوپاری کی سوئی وہیں اَٹکی ہوئی تھی وہ پھر سے بولا:
چودھری جی! چودھری ریاست کو وہ مَج آپ کو بیچ دینی چاہیے تھی ہم آٹھ بندے اُس کے ڈیرے پر گئے تھے….. اُس نے ڈیرے پر آیوں کی بھی نہ لاج رکھی۔
بالکل …..ہاں جی….. گل تو ٹھیک ہے…..کھری بات …..سچ اے…..صحیح کہا تونے…..‘‘ باقی چھے نے اپنے اپنے الفاظ میں آبی بیوپاری کی تائید کی صرف چودھری جہانگیر خاموش تھا وہ کسی گہری سوچ میں پڑ گیا تھا۔ اُس نے ہاتھ کے اشارے سے سب کو اُٹھنے کا اشارہ کیا۔ باقی کام منگتو نے سرانجام دیا منگتو نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے سب کو ہاتھ کے اشارے سے وہاں سے چلے جانے کا کہہ دیا۔ سب لوگ دبے پاؤں چلے گئے۔
وہ گھر گیاتو بیوی بچے سو رہے تھے ۔اُس نے اپنے گھر کی باہر سے کُنڈی لگا ئی اور نکل پڑا۔ وہ یخ ٹھنڈی سیاہ رات تھی سناٹا اتنا کہ اپنی سانس کا شور بھی سنائی دے۔ وہ کچی پگڈ نڈیوں پر چلتا رہا۔ کئی گندم کے کھیتوں میں سے گزرا،گندم کے ہزاروں ننھے پودے اُس کے قدموں سے کُچلے گئے اب وہ دریا کے کنارے پر تھا۔ اُس نے جوتے اُتارے اور اپنی بغل میں دبا لیے دریا اُترا ہوا تھا، اُس میں پانی تو گھٹنے گھٹنے ہی تھا مگر برف سے زیادہ ٹھنڈا اُس نے دریا بھی پار کیا سامنے چودھری ریاست کا ڈیرا تھا۔ اُسے معلوم تھا چودھری ریاست کے دو بُولی کُتے رات کے اِس پہر میں کہیں سے بھی نکل کر اُس پر حملہ کر سکتے ہیں پھر بھی وہ ڈیرے کی طرف چل پڑا ۔بھینسوں کے ڈھارے (کمرے) میں گیا وہ بھینس پہچانی جو چودھری جہانگیر کو پسند آئی تھی ۔اُس کے تین دن کے کٹے (بچے) پر پرانی بوری ڈالی پھر اُسے اپنے کندھوں پر اُٹھایا بھینس کی رسی کھولی اور واپس چل پڑا ۔واپسی کا سفر اُس نے دوسرے رستے سے کیا وہ کئی گنے کے کھیتوں کے پاس سے گزرا، ڈیرے پر پہنچا بھینس ڈھارے میں باندھی اُسے چارہ ڈالا ،کٹے کو کھلا چھوڑ دیا اور ڈھارے کی باہر سے کُنڈی لگا دی۔
دوسری طرف چودھری جہانگیر نے ساری رات آنکھوں ہی آنکھوں میں کاٹ دی۔ انگیٹھی میں دہکتے کوئلے بھی سو گئے تھے مگر چودھری کو نیند نہ آئی۔ مولوی صادق کی آواز چودھری جہانگیر کے کانوں میں پڑی فجر کی آذان ہو رہی تھی اُس نے اپنی رضائی ہٹائی اور مسجد چلا گیا۔
مسجد میں صرف پانچ افراد تھے۔ مولوی صادق نے امامت کی اُس کے پیچھے بابا خیرا، بابا دینا، کالا موچی اور چودھری جہانگیر تھا۔
دن چڑھا سب اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے۔ عصر کے بعد پھر سے چودھری جہانگیر کے ڈیرے پر رونق لگ گئی ۔رات والے سارے لوگ تھے، سوائے کالے موچی اور مولوی صادق کے ۔مولوی صادق تو اِس وقت بچیوں کو مسجد میں قرآن شریف پڑھاتا تھا اِس لیے وہ وہاں موجود نہیں تھا کالے موچی کی کسی کو خبر نہیں تھی کہ وہ کہاں ہے۔
منگتوصحن میں رات کو انگیٹھی میں جلانے کے لیے لکڑیاں کاٹ رہا تھا اندر بڑے سے کمرے میں سب لوگ حقوں سے دھواں نکال رہے تھے ۔چودھری جہانگیر کمرے میں داخل ہوا سب لوگ کھڑے ہوگئے ۔ اونچے ، نیچے، موٹے ،باریک کئی سُروں میں چودھری جہانگیر کو سلام کیا گیا۔
چودھری جہانگیر نے سلام کا جواب دیا اور اپنی جگہ پر بیٹھتے ہوئے سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا سب لوگ بیٹھ گئے۔ ابھی سب لوگ بیٹھے ہی تھے۔
چودھری ریاست بڑے جلالی انداز میں کمرے میں داخل ہوا اُس کے پیچھے آٹھ دس لوگ اور بھی تھے جن میں سے آدھوں کے کندھوں پر بندوقیں تھیں اور باقی کے ہاتھوں میں لمبی لمبی ڈانگیں جن کے اوپر گنڈاسے لگے ہوئے تھے۔
آؤ…..بسم اللہ…..چودھری ریاست…..‘‘ چودھری جہانگیر نے بڑے تپاک سے بانہیں کھولتے ہوئے چودھری ریاست کا استقبال کیا اور اُسے اپنے برابر میں بیٹھنے کے لیے جگہ دی۔
منگتو…..۔! اوئے منگتو…..! چودھری جہانگیر نے بڑے وقار سے منگتو کو آواز لگائی۔
جی چودھری جی….. منگتو فٹ سے بھاگتا ہوا آگیا۔
چودھری ریاست آیا ہے روٹی ٹُکر کا بندو بست کر۔
نا…..چودھری…..نا…..۔ آج روٹی ٹُکر نہیں….. چودھری ریاست تلخی سے بولا ۔اُس کا رویہ دیکھ کر چودھری جہانگیر کو تشویش ہوئی۔
خیر تو ہے…..؟
خیر ہی تو نہیں ہے…..تجھے بھینس نہیں بیچی…..تو…..۔؟ اُسے تونے چوری کروا لیا۔۔
چودھری ریاست!تو میرے ڈیرے پر آیا ہے اِس لیے لحاظ کر رہا ہوں۔
لحاظ…..؟ لحاظ تونے رکھا ہی کب ہے…..چودھری جہانگیر!میرے ڈیرے سے سیدھا کھُرا تیرے ڈیرے پر آیا ہے۔ اوئے کرمُوکھو جی بتاتا کیوں نہیں چودھری کو۔کرمُوکھو جی بڑے اعتماد سے اُٹھ کر چودھری جہانگیر کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور اپنی گردن کو ہاں میں جنبش دی۔ ڈیرے پر بیٹھے افراد کے درمیان کھُسر پھُسر شروع ہوگئی۔
کالا موچی کہاں ہے…..؟ تاجو کمہار نے ناظر ترکھان کے کان میں سرگوشی کے انداز میں پوچھا ۔ناظر نے ارد گرد دیکھا کالا موچی کہیں نظر نہیں آیا۔
وہ مَج چوری ہوگئی…..؟ آبی بیوپاری نے اپنے دائیں بائیں نجی لوہار اور سُودے نائی کی طرف دیکھ کر کہا۔
تم سب اِدھر آؤ….. وہ پانچوں ہاتھ باندھے چودھری جہانگیر کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ چودھری نے جانچتی نگاہوں سے سب کو دیکھا۔
اگر تم میں سے کسی نے چوری کی ہے تو ابھی بتا دے…..بعد میں…..میں چور کی کھال اُتار دوں گا۔سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر آبی بیوپاری آگے بڑھا اور ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا:
نا…..نا…..چودھری…..ہم میں سے یہ کام کسی نے بھی نہیں کیا
منگتو…..! سارے گاؤں میں دیکھ کر آ…..چودھری جہانگیر نے غصے سے حکم دیا۔ منگتو کے پیچھے پیچھے ہی آبی، پپو، نجی اور سُودا بھی چلے گئے۔
چودھری جی! کالے موچی کی خبر لے کر آؤں…..؟‘‘ناظر ترکھان نے دبے لفظوں میں پوچھا۔ چودھری جہانگیر نے آبرو کے اشارے سے اجازت دی۔
چودھری جی! کھُرا آپ کے ڈیرے سے آگے نہیں جاتا۔ کرمُو کھوجی نے ڈرتے ڈرتے عرض کی۔
کرمُو…..سوچ سمجھ کر بات کیا کر…..اب چودھری جہانگیر چوری کی بھینسیں اپنے ڈیرے پر باندھے گا۔چودھری جہانگیر نے کرمُو کو غصے سے ڈانٹ دیا۔
چھوٹے چودھری! تو ایک بار دیکھ تو سہی…..کُرمو کھوجی کاکھُراآج تک غلط ثابت نہیں ہوا…..
بابا خیرابول پڑا ، چودھری جہانگیر نے غصے سے بابے خیرے کی طرف دیکھا اور اُسے کہا کچھ نہیں شاید وہ اُس کی سفید ڈاڑھی کا لحاظ کر گیا تھا۔
اتنے میں منگتو پھولی ہوئی سانس کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔
چودھری جی! سب جگہ دیکھ آیا ہوں بھینس کہیں نہیں ہے۔‘‘ منگتو کے پیچھے پیچھے ہی ناظر ترکھان بھی آگیا اُس نے بھی نفی میں گردن ہلائی تھی۔
منگتو! کیا بھینس ہمارے ڈیرے پر ہے…..؟‘‘چودھری جہانگیر نے جلال سے پوچھا۔ منگتو نے جلدی سے حیرت کے ساتھ سوالیہ انداز میں جواب دیا:
ہمارے ڈیرے پر…..؟ ناں…..ناں….. جی۔‘‘
تاجو، آبی، سُودا اور نجی وہ سب لوگ بھی واپس آگئے۔
“چودھری جی! سارا گاؤں دیکھ لیا ہے۔۔مَج (بھینس) نہیں ملی۔‘‘ آبی بیوپاری نے گردن جھکا کر اطلاع دی۔
“چودھری ریاست!تیری بھینس مل جائے گی۔ فکر نہ کر…..اُوئے تم سب کالے موچی کو ڈھونڈ کر لاؤ۔‘‘ چودھری جہانگیر نے یقینی انداز میں کہا۔
“رہنے دو اوئے…..کالے موچی کو…..چودھری! کھرا تیرے ڈیرے پر آتا ہے اور تو سارے گاؤں کی تلاشی لے رہا ہے۔ صرف اپنے ڈیرے کی تلاشی لے لے بھینس مل جائے گی۔‘‘چودھری ریاست نے طنزیہ انداز میں کہا تھا۔ اُس کا انداز اور لہجہ چودھری جہانگیر کو لڑ گیا تھا۔ وہ غصے سے اُبل پڑا۔
“چودھری ریاست! میں پھر سے تیرا لحاظ کر رہا ہوں ۔ اِس لیے کہ تو اِس وقت میرے ڈیرے پر بیٹھا ہے۔‘‘چودھری جہانگیر نے دانت پیستے ہوئے جواب دیا۔
“تو مت کر لحاظ اور اپنے ڈیرے کی تلاشی دے دے۔‘‘ چودھری ریاست نے بھی تلخی سے جواب دیا۔
“تلاشی…..؟ آج تک تو ایسا ہوا نہیں…..اور آگے بھی نہیں ہوگا۔‘‘ چودھری جہانگیر نے حتمی انداز میں جواب دیا۔
“اگر تو تلاشی نہیں دے گا…..؟ پھر کُنڈی کھولنی پڑے گی!‘‘ چودھری ریاست نے بھی اپنا فیصلہ سُنا دیا ۔
“کُنڈی…..؟ کُنڈی کھولنی پڑے گی…..؟ چودھری کو…..؟ ایک بھینس کے لیے…..! کالے کا ہی کام لگتا ہے۔۔! کہیں ذبح ہی نہ کر لی ہو۔‘‘ چودھری جہانگیر کے حمایتیوں نے اپنی حیرت اور فکر مندی کا اظہار اپنے اپنے الفاظ میں کیا ۔چودھری جہانگیر نے کچھ دیر سوچا پھر اُٹھ کر چل پڑا۔
“چل چودھری ریاست…..!‘‘
مغرب کی آذان سے کچھ دیر پہلے مولوی صادق نے قرآن شریف پڑھنے والی بچیوں کو چھٹی دی۔ مسجد سے گھر جانے کے لیے نکلا، مسجد کے دروازے کی باہر سے کُنڈی لگائی اور چلا گیا ابھی وہ گھر کے اندر داخل ہی ہوا تھا، گلی میں سے گزرتے ہوئے ہجوم کا شُور اُس کے کانوں میں پڑا وہ جلدی سے باہر آیا گلی میں سب سے آگے چودھری جہانگیر اور اُس کے ساتھ چودھری ریاست چلتے ہوئے مسجد ہی کی طرف جا رہے تھے۔ اُن دونوں کے پیچھے بہت سارے لوگ تھے مولوی صادق کو تشویش ہوئی اور وہ بھی اُن کے پیچھے چل پڑا۔ مسجد کے دروازے کے سامنے پہنچ کر چودھری جہانگیرا ور چودھری ریاست کھڑے ہوگئے۔ چودھری ریاست نے مسجد کے دروازے کی باہر سے لگی ہوئی کُنڈی دیکھ کر پھر سے طنزیہ انداز میں کہا۔
“چودھری جہانگیر! اگر تو سچا ہے تو ۔۔؟کھول دے مسجد کی کُنڈی …..تیرا میرا فیصلہ ہو جائے گا۔ ‘‘چودھری جہانگیر نے ایک نظر چودھری ریاست کی طرف ڈالی پھر اپنے قدم مسجد کے دروازے کی طرف اُٹھائے جیسے جیسے چودھری جہانگیر کے قدم مسجد کی طرف اُٹھ رہے تھے لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بڑھ رہی تھی سب کی سانسیں ساکن ہو چکی تھیں۔
سب کی پلکوں کے کواڑ کھلے ہوئے تھے سب کی آنکھوں کے آئینوں میں دو ہی تصویریں تھیں چودھری جہانگیر اور مسجد کی کُنڈی۔ چودھری جہانگیر نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا پھر دوسری پر اب اپنے ہاتھ کُنڈی کھولنے کے لیے بڑھائے اُس نے دایاں ہاتھ کُنڈی پر رکھا ہی تھا ہجوم میں سے ایک آواز بلند ہوئی:
“کُنڈی نہ کھولنا…..! چودھری جی…..کُنڈی نہ کھولنا۔ ‘‘سب کی نظروں نے اُس آواز کا تعاقب کیا جس میں بے شمار درد تھا۔مولوی صادق نظریں جھکائے کھڑا تھا اور روتے ہوئے زور زور سے کہہ رہا تھا:
“کُنڈی نہ کھولنا…..! چودھری جی…..کُنڈی نہ کھولنا …..وہ بھینس میں نے چوری کی تھی۔‘‘چودھری جہانگیر کا ہاتھ رُک گیا اور وہ اُلٹے پاؤں مسجد کی دونوں سیڑھیاں اُتر آیا۔ سارے ہجوم کی نظروں کا مرکز و محور مولوی صادق تھا۔ اِس سے پہلے کہ مولوی صادق کو لعنت ملامت ہوتی ایک بزرگ گھوڑی پر بیٹھ کر وہاں آیا اور مسجد کی کُنڈی کھول کرچپ چاپ مسجد میں داخل ہوگیا۔
“ابّا جی…..‘‘چودھری جہانگیر نے منہ میں کہا۔
“وڈے چودھری جی…..!‘‘ ہجوم میں سے کئی دبی دبی آوازیں سنائی دیں۔
چودھری اکبر نے صحن میں کھڑے ہو کر کلمہ حق بلند کر دیا ،مغرب کی اذان سنتے ہی سب سے پہلے چودھری جہانگیر مسجد میں داخل ہوا اُس کی دیکھا دیکھی سارا کا سارا گاؤں مسجد داخل ہوگیا سب سے آخر میں مولوی صادق جھکی ہوئی گردن کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا تھا۔آذان ختم ہوگئی مگر مولوی کے مصلحے پر کوئی کھڑا نہ ہوا۔
“مولوی صادق! آگے آ اور نماز پڑھا ۔جو کو ئی بھی مولوی صادق کو بُرا آدمی سمجھتا ہے وہ اِس کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔‘‘ بڑے چودھری نے اعلان کی طرز پر حکم دیا ۔مولوی صادق نظریں جھکائے لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا مصلحے تک پہنچا اور مغرب کی نماز پڑھائی ۔گاؤں کے سب لوگوں نے مولوی صادق کے پیچھے نماز ادا کر لی۔ سوائے چودھری ریاست اور اُس کے ساتھیوں کے۔
عید کے بعد آج پہلی بار اتنے نمازی گاؤں کی مسجد میں تھے۔ دعا کے بعد پھر چودھری اکبر بولا:
“نماز کے بعد سارے لوگ ڈیرے پر آجائیں۔”
چودھری ریاست اور اُس کے ساتھیوں نے جماعت کے بعد اپنی اپنی نماز ادا کی ۔ نماز کے بعد مسجدتقریباً خالی ہوگئی ۔گاؤں کے سارے لوگ جا چکے تھے صرف چودھری اکبر اور بابا خیرا بیٹھے ہوئے تھے۔ چودھری ریاست بھی اُٹھ کر جانے لگا تھا۔
ریاست پُتر فیصلہ تو کرتے جاؤ…..! چودھری اکبر نے ریاست کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اُسے بٹھا لیا۔
تایا جی! جس گاؤں کا امام ہی چور ہو….. اور گاؤں کے مالک اُس کے سرپرست ہوں…..وہاں فیصلہ…..؟ چودھری ریاست نے پھیکی سی مسکراہٹ سے جواب دیا۔
“وہ امام کے ساتھ ساتھ…..انسان بھی تو ہے…..اور انسان ہی غلطیاں کرتے ہیں۔‘‘بابے خیرے نے کہا۔
“غلطی…..غلطی ….. سے ہوتی ہے اور چوری جان بوجھ کر کی جاتی ہے۔‘‘ چودھری ریاست نے خفگی سے جواب دیا۔
“جو غلطی تو نہ کرے اور چوری کر بیٹھے اُس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے…..؟ ‘‘چودھری اکبر نے مولوی صادق کی صفائی کے ساتھ ساتھ لگے ہاتھوں ریاست سے مشورہ بھی مانگ لیا۔
“تایا جی! مجھے اجازت دیں…..آپ نے اور آپ کے گاؤں نے مولوی کے حق میں فیصلہ تو پہلے ہی دے دیا ہے۔‘‘ چودھری ریاست نے گِلے کے انداز میں کہا۔
“نہ پُتر میں نے تو زندگی میں کبھی بھی فیصلے نہیں کیے…..میں نے تو صرف لوگوں کو معاف کیا ہے…..تو میرے ساتھ ڈیرے پر چل میں رب کے گھر میں بیٹھا ہوں، جو فیصلہ تو کرے گا میں اُس پر آمین کہوں گا۔‘‘ چودھری اکبر نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ۔ چودھری اکبر کے بعد بابا خیرا بول پڑا:
“وڈے چودھری نے تو کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا…..فیصلے کے لیے گواہوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ فیصلہ یہ نہیں ہے کہ مولوی چور ہے یا پھر چوکیدار بلکہ فیصلہ تو یہ ہے کہ مولوی اچھا ہے یا بُرا…..؟ چور، چوری کرے تو ہاتھ ضرور کاٹنے چاہئیں اگر ساری عمر کی چوکیداری کے بعد…..! چوکیدار غلطی کر بیٹھے…..تو لوگوں سے صلاح (رائے) کرلو…..وڈے چودھری نے بھی لوگوں کی صلاح ہی لی ہے۔کیوں کہ زبانِ خلق نَقارہ خدا ہے ….. اِسی لیے سارے گاؤں والوں نے مولوی کے حق میں گواہی دی ہے۔ بات کرنے سے بات ختم ہوتی ہے۔ اپنی سُنا اور مولوی کی سُن…..وڈے چودھری نے کہا ہے نا …..جو فیصلہ تو کرے گا …..ہمیں قبول ہوگا….. ‘‘ بابے خیرے کی باتوں کے بعد چودھری ریاست خود ہی اُٹھ کر ڈیرے کی طرف چل پڑا۔
سب لوگ پہلے ہی ڈیرے پر پہنچ چکے تھے۔
“پُتر ریاست اپنی بات سب کو بتا ‘‘ وڈے چودھری نے بڑے اطمینان سے کہا۔
“تایا جی! کل میرے ڈیرے پر چودھری جہانگیر اور اُس کے سات ساتھی آئے تھے جن میں مولوی بھی تھا…..چودھری نے میری بھینس کی قیمت لگائی۔میں نے کہا اِس بھینس کو چھوڑ کر چودھری جہانگیر تو کوئی بھی پسند کر لے۔ چودھری جہانگیر نے کہا تو قیمت بول۔میں نے وہ بھینس دینے سے انکار کر دیا چودھری نے مولوی صادق کو بھیج کر وہ بھینس چوری کروالی۔‘‘
یہ بات سُن کر مولوی صادق گردن جھکائے کھڑا ہوگیا۔
“تو بول مولوی صادق…..‘‘ بڑے چودھری نے بولنے کی اجازت دے دی۔
“چودھری جی! میں نے بھینس چوری کی ہے…..۔ میں مانتا ہوں…..مگر …..ناہی کسی کے کہنے پر اور نہ ہی اپنے لیے۔‘‘
“پھر تونے چوری کیوں کی۔؟ اور اِس وقت وہ بھینس کہاں ہے۔‘‘ بڑے چودھری نے تحمل سے پوچھا۔
“وہ بھینس آپ کے ڈیرے کے پیچھے جو ڈھارا (کمرا) ہے وہاں ہے اور چوری میں نے چودھری جہانگیر کی خوشی کے لیے کی تھی۔‘‘
“جہانگیر کی خوشی…..؟‘‘بڑے چودھری نے حیرت سے پوچھا۔
“جی چودھری جی….. آپ نے اور چھوٹے چودھری نے ہمیشہ گاؤں والوں کی خوشی کا خیال رکھا ہے ۔اگر میں چوری نہ کرتا تو کوئی اور کر لاتا مگر ہم چھوٹے چودھری کو اُداس نہیں دیکھ سکتے….. چھوٹے چودھری جی جب سے بھینس کے بغیر ،چودھری ریاست کے ڈیرے سے آئے تھے اُن کا منہ لٹکا ہوا تھا۔۔جو مجھ سے دیکھا نہیں گیا ۔تب ہی میں نے فیصلہ کر لیا کہ جو بھی ہو وہ بھینس چھوٹے چودھری کے ڈیرے پر ضرور آئے گی۔‘‘
“تجھے ڈر نہیں لگا….. یہاں سے چار میل دور ہے میرا ڈیرا….. میرے ڈیرے پر دو بُولی کُتے بھی ہیں ۔وہ تجھے کچا ہی کھا جاتے…..‘‘ چودھری ریاست نے حیرت سے پوچھا ۔اُس کے فوراً بعد بابے خیرے نے تشویشی انداز میں مولوی صادق سے سوال کیا:
“مولوی صادق! عشا کی نماز تونے پڑھائی پھر ہمارے ساتھ یہاں آگیا…..یہاں سے بھی ہم سب اکٹھے ہی اُٹھے تھے…..فجرے بھی سب سے پہلے تو ہی مسیت میں پہنچا تھا۔ بھینس تو کب لے کر آیا…..؟‘‘
“بابا! یہاں سے جانے کے بعد میں گھر گیا سب گھر والے سُو رہے تھے ۔میں نے گھر کی باہر سے کُنڈی لگائی اور نکل پڑا…..راتوں رات بھینس لے کر آگیا…..بھینس ڈھارے میں باندھی۔گھر آکر نہایا کپڑے بدلے اور مسیت میں آکر آذان دی۔‘‘سارا ہجوم مولوی صادق ہی کی زبانی اُس کی چوری کا قصہ بڑے شوق اور حیرت سے سُن رہا تھا۔
“رستے میں بہت سارے کماد (گنے) کے کھیت بھی ہیں، کوئی بارلہ یا بھگیاڑ (سُور یا بھیڑیا) تجھے مل جاتا…..تو…..؟ ‘‘چودھری جہانگیر نے پوچھا۔
“میں جی آیۃ الکرسی پڑھتا ہوا گیا تھا اور واپس بھی پڑھتا ہوا آیا تھا اورکتوں کا بندوبست بھی میں نے کیا ہوا تھا…..کالا موچی کہتا ہے بڑے سے بڑے خونخوارکتے کو گُڑ کھلا دیا جائے تو وہ کچھ نہیں کہتا۔گُڑ بھی میرے کھیسے (جیب) میں ہی تھا، مگر مجھے چودھری ریاست کے بُولی کُتے مِلے ہی نہیں‘‘مولوی صادق نے بھولے پن سے جواب دیا۔
سب مولوی صادق کی بات سُن کر ہنس پڑے اور دیر تک قہقہوں کا شور رہا۔ اُس کے بعد بڑے چودھری نے اپنا دایاں ہاتھ ہوا میں بُلند کیا تو شور یک دَم ختم ہوگیا۔
“ریاست پُتر! تو اب خود ہی فیصلہ کر دے…..‘‘ بڑے چودھری نے کہا۔
“ریاست نے مولوی کی طرف دیکھا جس کی گردن جھُکی ہوئی تھی پھر اُس نے بابے خیرے سے نظریں ملائیں جن میں التجا تھی۔ ڈیرے پر موجود سب افراد کی نظریں چودھری ریاست پر مرکوز تھیں سب کی سانسیں سا کن تھیں ۔ سب جانتے تھے جو بات چودھری ریاست کہے گا وہ حتمی ہوگی۔چودھری ریاست نے سارے مجمعے پر نظر دوڑائی ،ایک لمحے سوچا پھر بول اُٹھا:
تایا جی! وہ بھینس میری بہن نے اپنے جہیز کے لیے پسند کر رکھی تھی اِس لیے چودھری جہانگیر کو خالی ہاتھ بھیج دیا۔ اب میں وہی بھینس …..مولوی صادق کو اُس کی بہادری کے انعام میں تحفہ دیتا ہوں۔ڈیرے پر موجود سب لوگ یہ سن کر خوشی سے جھوم اُٹھے اور ستائشی نظروں سے چودھری ریاست کو دیکھنے لگے۔ سودے نائی نے تو اُٹھ کر چودھری ریاست کے لیے نعرہ بھی لگا دیا۔
ایک بھینس میری طرف سے بھی۔ مولوی صادق کو اُس کی بہادری کا انعام ۔‘‘بڑے چودھری نے بھی مسکراتے ہوئے کہا۔
بابے خیرے نے بڑے چودھری کی طرف دیکھا اُس کے بعد مشکور نگاہ چودھری ریاست پر ڈالی پھر کہنے لگا
“مولوی صادق ! ہر بار چوری پر انعام نہیں ملتا….. آگے سے کسی کی بھی…..بہادری میں بھی …..
“کنڈی نہ کھولنا”
اگلی سٹوری کے تصویر پر کلک کریں
یہ کتاب ابھی گھر بیٹھے کیش آن ڈلیوری حاصل کرنے کے لئے اپنا نام پتہ فون نمبر لکھ کر ہمیں ان باکس کریں یا دیئے گئے نمبر پر وٹس اپ کریں
03059265985

آپ بھی اپنی تحریریں ہمیں بھیج سکتے ہیں ۔۔۔۔
تحریر ہمیں ان باکس کریں آپ کی تحریر انشاء اللہ ریویو کے بعد پوسٹ کر دی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

Afsana Fay From Nook Palak by Shakeel Ahmad Chohan in Urdu

First of all thanks for landing this article, if you are searching for Afsana

پانچ کانوٹ پہلا افسانہ نوک پلک مصنف شکیل احمد چوہان

پانچ کا نوٹ آج میں نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کے ہاتھ میں دس