+(92)305 9265985 +(92) 0300 8040571
books4buy info@books4buy.com

Blog Post

ہاں یہ بھٹو ہے پارٹ ون رائے ارشاد کمال


ہاں یہ بھٹو ہے!
اک متاعِ دل و جاں پا س تھی سو ہار چکے
ہائے! یہ وقت کہ اب خود پر گراں ہیں ہم لوگ
You can Break my body, But cannot break my spirit
جدیدمسلم معاشرے کا ایک المیہ سطحی جذباتیت ہے، اور سیاسی و مذہبی کلچر میں حقائق کی دریافت گویا شجر ممنوعہ ! جانے ہم نے کب سے تعلقات و ادراکات کو دیس نکالا دے رکھا ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیوں؟ مسلمان کئی سو سال سے غیر حقیقی تصورات کے صحرا میں بھٹکتے چلے آتے ہیں، یہاں تک کہ کسی بات، موضوع، واقعہ یا حقیقت کی حقیقت سمجھنے ہی سے عاری ہو گئے۔ صدیوں سے صرف سایوں کا تعاقب جاری ہے۔ خواب اور سراب ! ایک قوم جس کی آنکھیں اور کان بھی گروی رکھنے پڑے ہیں۔ کچھ بھی تو اپنا نہیں۔ ذہنی جغرافیہ نہ عملی حدود اربعہ۔
ملت اسلامیہ کے فکری ارتقاء کا راستہ ملوکیت نے روک دیا ہے۔ تاریخ اسلام میں ملوکیت کو جناب امیر معاویہ نے رواج بخشا تھا۔ خلافت کے خاتمہ پر ملوکیت کا آغاز ان کا اقدام خالص سیاسی تھا، لیکن اس کی تعبیر و تشریح مذہبی اسلوب میں ہوئی۔ وہ دن اور آج کا دن قیام و استحکام حکومت کے لئے مذہب کے بطور ہتھیار استعمال کیا کرتے ہیں۔
اورنگ زیب عالمگیر جنہیں بر صغیر پاک و ہند کے اسلامی حلقوں میں کافی سے زیادہ احترام حاصل ہے، نے بھی شاید یہی روایت آگے بڑھائی۔ وہ ایک فرشتہ سیرت حکمران تھے، ہمیں بتایا گیا ہے۔ بعض حوالوں سے واقعی فرشتہ صفت تھے۔ انسانی علم کے مطابق بدنی گناہوں سے محفوظ، نیز اعتقادات، عبادات اور اخلاقیات کا دلکش نمونہ، مگر معاملات کے ایک رخ سے معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔
آنکھوں پر محبت یا نفرت کی پٹی بندھی ہو تو خوبیوں اور خامیوں کو دیکھنے کا انداز ہی بدل جاتا ہے۔ پہلی صورت میں اچھائی اور دوسری میں برائی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ فرشتہ یا شیطان ، اور انسان نظروں سے اوجھل رہ جاتا ہے۔ اب مثلاً اس نے جو اورنگ زیب عالمگیر کے بارے میں عہد حاضر کے ایک مبصر نما مورخ کا خیا ل ہے:

داراشکوۃ کو مروایا ہے تو ظاہر ہے وجہ تو سیاسی تھی، لیکن اس نے سیاسی طریقے سے نہیں مروایا، بلکہ علماء سے فتویٰ لیا کہ اس کو ملحد قرار دے دو۔ دوسرے بھائی مراد کے بارے میں بھی اس نے اس شخص سے قصاص کا دعویٰ دائر کروایا، جس کا باپ اس کے ہاتھوں قتل ہوا تھا، حالانکہ اس نے مروایا تو سیاسی وجوہ کی بناء پر تھا، لیکن سہارا مذہب کا لیا۔
میں یہ نہیں کہتا کہ ڈاکٹر مبارک علی نے ہر قسم کے تعصبات کو یکسر الگ رکھ دیا ہوا ہے۔ کیا خبر، ان کا دامن خیال مذہبی و قومی وابستگیوں سے جان چھڑاتے ہوئے کسی غیر مذہبی و غیر قومی جذبہ یا احساس میں الجھ کر رہ گیا ہو۔ آزاد گرفتار تاہم صداقت یہ ہے کہ ہماری تاریخ ایسے اذیت ناک حوالوں سے بھری پڑی ہے ۔ اورنگ زیب عالمگیر، اس سے قطع نظر کہ اس نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا کیا اور کیوں کیا؟ وہ ایک بڑا انسان ، غیرت مند مسلمان اور عظیم حکمران تھا۔ صدر جنرل ضیاء الحق نے سوانگ ضرور بھرا، لیکن وہ معمولی بلکہ غیر معمولی طور پر چھوٹا آدمی تھا۔ غیرت مند مسلمان بھی نہیں، اور عظمت تو اسے چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔ یزیدی روایت کی رعایت سے وہ مسلط ضرور ہوا، منتخب نہیں۔ قوم نے اسے بہر کیف بھگتا!
ضیاء نے بھٹو کو دراصل مذہب ہی کے ہتھیار سے قتل کیا۔ سچے مذہب کا جھوٹا پیرو کار ! لوگ کہتے ہیں تو سچ ہی کہتے ہوں گے۔
“جس پر تم نے احسا ن کیا ہے، سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا مبنی برحکمت و حقیقت یہ قول، عمرانی تاریخ کے ماتھے پر ہمیشہ جگمگ جگمگ کرتے پایا گیا ۔ اس کے شر سے محفوظ بھی رہو۔”بھٹو ضیاء کا محسن تھا۔ ضیاء نے بھٹو کو ڈس لیا۔ لاکھ پیار کے منتر پڑھ لیے جائیں، جن کی فطرت میں ڈسنا ہو وہ تو ڈستے ہیں۔ بھٹو بھی ضیاء کے شر سے محفوظ نہیں رہا۔ کم ظرف پر احسان کرنا اور میٹھی کھیر پکا کے کتوں کے آگے دھرنا ایک جیسے عمل ہیں۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ دیکھئے پارٹ 2 میں
یہ کتاب ابھی گھر بیٹھے کیش آن ڈلیوری حاصل کرنے کے لئے اپنا نام پتہ فون نمبر لکھ کر ہمیں ان باکس کریں یا دیئے گئے نمبر پر وٹس اپ کریں

03059265985
books4buy.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

نقش اول کتاب ہاں یہ بھٹو ہے پارٹ 2

محترم خواتین و حضرات ہم حاضر ہیں رائے ارشاد صاحب کی کتاب ہاں یہ