+(92)305 9265985 +(92) 0300 8040571
books4buy info@books4buy.com

Blog

افسانہ میم-پارٹ 2 زندگی کے بعد موت سے پہلے

پیارے افضل سے ملنا ہے۔ مزمل گاڑی میں بیٹھنے لگا تو اُسے سیڑھیوں سے اوپر ہال کے داخلی دروازے سے آگے وہ بلّی آنکھیں دوبارہ نظر آئیں جو مزمل کو ہی دیکھ رہی تھیں۔ بھائی…! پیارے افضل واقعی آپ کا دوست ہے؟ منیبہ نے بھی اشتیاق سے پوچھا۔ نہیں گڑیا…! وہ تو میں نے مذاق کیا تھا نہیں تو تمھارے بھائی کے دس ہزار اور چلے جاتے۔‘‘ مزمل نے گاڑی ڈرائیور کرتے ہوئے منیبہ کی طرف دیکھ کر جواب دیا۔ وہ اپنے ٹیرس Read More...

افسانہ میم-زندگی کے بعد موت سے پہلے شکیل احمد چوہان

زندگی کے بعد ۔ موت سے پہلے افسانہ میم مزمل کھانے سے فارغ ہوا تو اس نے اپنی رولکس کی گھڑی میں ٹائم دیکھا تین بجنے والے تھے۔ واپسی کب تک ہے؟ مزمل نے مبشر کے کان میں سرگوشی کے انداز میں پوچھا۔ ’’مغرب ہو ہی جائے گی۔‘‘ مبشر نے اُسی انداز میں بتایا۔ ’’OK… میں نماز کے لیے جا رہا ہوں۔ جب جانا ہو تو مجھے کال کر لینا۔‘‘ مزمل نے یہ کہا اور شادی ہال سے باہر نکل آیا۔ باہر آ کر Read More...

پانچ کانوٹ پہلا افسانہ نوک پلک مصنف شکیل احمد چوہان

پانچ کا نوٹ آج میں نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کے ہاتھ میں دس روپے کا سکہ دیکھا۔ گزرے ہوئے وقت کا ایک دن یاد آگیا ۔ وقت ہم کو گزارتا ہے یا ہم وقت کو گزارتے ہیں؟یہ سوال تو اپنی جگہ بہر حال رہے گا۔ میں تو یہ جانتا ہوں ہر گزرتا دن بہت کچھ بدل جاتا ہے آپ کی ذات میں بھی اور کائنات میں بھی ۔وقت سے زمانہ ہے اور زمانے سے وقت۔ قدرت نے وقت Read More...

تیسری قسط بلال صاحب ناول-مصنف شکیل احمد چوہان

کمرے میں گیس ہیٹر کی وجہ سے اچھی خاصی حرارت موجود تھی۔ جہاں آرابیگم ہاتھ میں تسبیح لیے توبہ استغفار میں مصروف تھیں ۔ اُسی لمحے دروازہ کھلا۔ ’’ماں جی آداب…!‘‘اندر آتے ہوئے جمال رندھاوا نے کہا۔ جہاں آرا بیگم کی آنکھیں روشن ہوگئیں۔ اُنہوں نے اپنی موونگ چیئر سے اٹھنا چاہا۔ ’’آپ تشریف رکھیں ماں جی‘‘جمال رندھاوا خود ہی جلدی سے اپنی ماں کے گلے ملا پھر ماں کے قدموں میں کارپٹ پر کُشن کے اوپر بیٹھ گیا ’’میرا بچہ Read More...

بلال صاحب ناول مصنف شکیل احمد چوہان قسط2

ڈاکٹرہاجرہ نیازی اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی ہیں عمر 50سال کے آس پاس اس ہسپتال میں تقریباً20سال سے اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ ان کے سامنے میز کی دوسری طرف ایک مرد اور عورت بیٹھے ہیں عورت زندگی میں تقریباً 25بہاریں دیکھ چکی ہے۔ اس کی گود میں ڈیڑھ دو ماہ کا بچہ ہے، اس کے چہرے پر پریشانی کا پڑاؤ ہے۔ مرد کچھ حد تک مطمئن ہے۔ اپنے سامنے پڑی رپورٹس دیکھ کر ڈاکٹر ہاجرہ نیازی نے کہا: Read More...

بلال صاحب ناول مصنف شکیل احمد چوہان قسط1

بلال وہ اک نام جو اس کی سوچ کی پتھریلی زمین پر، پتھر پر لکھی ہوئی تحریر کی طرح نقش ہے، وہ نام جسے وہ اپنی زبان پر لانا پسند نہیں کرتی تھی ۔ اب اس کی زبان کا کل اثاثہ ہے‘ وہ ایک ہی ورد جپتی ہے، صبح ہو یا شام بہار ہو یا خزاں اس کے ہونٹوں پر وہی ایک نام ہے، باقی سب کچھ وہ بھول چکی ہے‘ قحط کے دنوں میں میلوں دور تک پھیلے Read More...

واقعہ حضرت بابا بلھے شاہ ایک سکھ سپاہی کی مدد کرنا

حضرت بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا زمانہ سیاسی انتشار سے بھر پور تھا اور مغل فرنروا اورنگ زیب عالمگیر وفات پا چکا تھا اور اس کی وفات کے بعد پورے ملک میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص خانہ جنگی کی آگ بھڑک اٹھی تھی اور سکھ پنجاب پر اپنا اقتدار قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ اس پر آشوب دور میں دو ہزار سکھ سپاہیوں کا ایک دستہ جن کے پاس توپ Read More...

حضرت بابا بلھے شاہ ؒ کی حضور داتا گنج بخش ؒ کے مزار پر حاضر

لاہور میں حضرت عنایت قادری کی خانقاہ میں قیام کے دوران حضرت بابا بلھے شاہ اکثر و بیشتر حضور داتا گنج بخش ؒ کے مزار پاک پر حاضر ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ مزار پاک میں موجود تھے اور سینکڑوں طالبان حق بھی حاضر خدمت تھے لوگ اپنے نعتیہ کلام سنا رہے تھے۔ اس موقع پر آپ نے اپنی پنجابی نعت پڑھی اور سب لوگوں کو حیران کر دیا اور لوگوں پر آپ کی نعت سننے کے بعد Read More...

بابا بلھے شاہ ؒ کی اپنے مرشد سے محبت اور خاندان سے اختلاف

حضرت بابا بلھے شاہ (رحمتہ اللہ علیہ) کی ہمشیرگان اور دیگر اہل خانہ نے آپ کو حضرت شاہ عنایت قادری شطاری سے یوں والہانہ عقیدت رکھنے سے منع فرمایا مگر آپ کی مستی اور مرشد کے ساتھ والہانہ عقیدت میں کوئی فرق نہ آیا جس پر آپ کو اپنی ذات اور برادری کے لوگوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور بے شمار قسم کے طعنے برداشت کرنے پڑے۔ حضرت بابا بلھے شاہ خاندان اور برادری والوں کی Read More...

حضرت بابا بلھے شاہؒ کا اپنے مرشد تک سفر

حضرت بابا بلھے شاہ کو آپ کے جد امجد سید عبدالحکیم کی زیارت حضرت بابا بلھے شاہ ایک دن معمول کے مطابق وظیفہ پڑھ کر سوئے تو خواب میں دیکھا کہ آپ سفر میں ہیں اور شدید گرمی کا موسم ہے۔ آپ ادھر ادھر نگاہ دوڑاتے ہیں کہ شاید کوئی درخت نظر آئے جس کے سایہ میں آرام ملے۔ پھر آپ کو ایک جگہ چند درخت نظر آتے ہیں اور آپ ان میں سے ایک درخت کے نیچے جا Read More...