+(92)305 9265985 +(92) 0300 8040571
books4buy info@books4buy.com

Blog Post

Ramooz e Tasawaf Peer Ijaz Hussain Jalvi 01


زیر طبع کتاب : رموز تصوف
مرتبہ صاحبزادہ محمد اعجاز حسین جلوی ابن پیر امام جلوی سرکار ؒ فیصل آباد(زیر تبع کتاب)
رموز تصوف
٭ عنایت کسی بھی شرط کی پابند نہیں ہوتی۔ ہر عنایت کے ہمراہ پہلے قبولیت اترا کرتی ہے پھر توفیق۔
٭ علم صفات تک اور عشق ذات تک پہنچاتا ہے۔
٭ سفید کپڑے کو جس رنگ میں چاہو رنگ سکتے ہو۔ لیکن کالے پر کوئی رنگ نہیں چڑھتا۔
٭کرم لا محدود ہے۔ اگر کرم قدر کا مقدور ہوتا تو محدود ہوتا ناقص ہوتا۔
٭ حسن جب تک معصو م رہتا ہے۔ برقرار رہتا ہے۔ بے نور رہتا ہے اور نہ بے قدر۔
٭درویش نہیں درویش کا طالب بن۔ مخدوم نہیں مخلوق کا خادم بن۔
٭ہر وصل کی شرط خلوت ہے۔ حقیقی ہو یا مجازی۔
٭آنحضور محبوب خدا محمد مصطفی ﷺ کا ظاہر اور باطن دونوں حق ہیں۔
٭حدیث قدسی۔ اے بنی آدم دنیا کی کھائی سے نکل جا تا کہ تو جنت میں داخل ہو سکے اور پھر جنت سے بھی نکل جا تا کہ تو مجھ سے مل سکے۔
٭عقل حیوانی کےلئے دنیا کی کھائی ہے۔ جس میں وہ گری ہوئی ہے اور عقل انسانی کے لئے رب العالمین
٭اول کثرت در وحدت تھی اور آخر وحدت در کثرت ہے۔
٭علم کے بغیر تقلید جنم لیتی ہے اور تصدیق کے بغیر تقلید ناقص ہے۔
٭ذات نے اسماء و صفات کے ساتھ نزول کیا ہے۔ وگرنہ ذات کا نہ نزول ہے اور نہ عروج۔
٭قرآن ذات، صفت اور فعل پر نازل ہوا ہے۔ فعل مقدار، صفت معیار اور ذات اسرار ہے۔ مقدار تقلید کے تابع ہے معیار تصدیق کے تابع ہے اور اسرار تحقیق کے تابع ہے۔
٭ علم لدنی: جہاں عقل کی انتہا ہوتی ہے۔وہاں سے علم کی ابتدا ہوتی ہے۔اور جہاں علم کی انتہا ہوتی ہے وہاں سے معلوم کی ابتدا ہوتی ہے۔ معلوم ہی ادراک اور عرفان ہے جو عطائے ذاتیہ ہے۔ اس کو علم لدنی کہتے ہیں علم وہی اور علم اسراری بھی یہی ہے۔
٭ کلام اللہ ( قرآن پاک) ذات، صفت اور فعل پر ناز ل ہوا ہے۔قرآن کا فعل مقدار سے عبارت ہے اور صفت معیار سے اور ذات اسرار سے عبار ہے۔ فعل سے مقدار جنم لیتی ہے اور صفات سے معیار جنم لیتا ہے اور ذات سے اسرار جنم لیتا ہے۔ مقدارتقلید کے تابع ہے اور معیار تصدیق کے تابع ہے اور اسرار تحقیق کے تابع ہے۔
خبردار ، عمل وفعل کی مقدار نہیں بلکہ معیار کی ضرورت ہے اور معیار قرآن کی تصدیق سے ہی ملتا ہے اور اسرار اس کی تحقیق سے ملتے ہیں اور تحقیق ایسی کہ شک نہر ہے کیونکہ شک ہی شرک ہے۔
شک انکار کو جنم دیتا ہے اور انکار کفر کو جنم دیتا ہے۔ شرک ہر شخص ہمہ وقت کر رہا ہے۔ مگر عارف کامل اس سے بچتا ہے کیونکہ وہ حکم و حاکم کا عارف ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔ (جاری ہے)
قرآن مجید لوح محفوظ میں ہے، علم سے عروج تک تا کہ معلوم تک رسائی یعنی اس سے اس کے مسمیٰ تک عروج، ظاہر قرآن سے عروج کرکے باطن تک چلے جانے کا نام معراج ہے۔ اس سے نیچے صرف علم ہے۔ معلوم نہیں۔
٭خبر سے نظر تک جانے کا نام تدبیر ہے۔ جو خبر سے علم ہو اس کو تصدیق و تحقیق سے جس شے کا علم ہوا اس کی حقیقت کو پا لینا یہ اس کا معلوم ہے اور یہی اس کی تدبیر ہے۔
٭لوح محفوظ ہی کتاب مبین ہے۔ ظاہر قرآن جو کہ ہم پڑھتے ہیں یہ ام الکتاب ہے۔ اس سے تدبیر کر کے اس کے باطن تک جو کہ لوح محفوظ ہے، کتاب المبین ہے۔ یہی اس علم کا مفہوم ہے۔
٭ خلق و حق کے درمیان عقل و نفس کے دو پردے ہیں۔ ایک پردہ جہالت کا ہے اور دوسرا غفلت کا۔ جہالت کا پردہ علم الیقین سے دور ہوتا ہے اور غفلت کا پردہ عین الیقین سے دور ہوتا ہے۔
٭ کائنات کی ہر شے علامت، حقیقت اور حق پر مشتمل ہے۔ علامت کلی طور پر ظاہر ہوتی ہے اور اس کی حقیقت ظاہر و باطن کی حد پر برزخ ہوتی ہے۔ اور اس کی ماہیت اور حق علامت و حقیقت کے پردوں کے پیچھے مخفی در مخفی ہوتا ہے۔
یہ انتساب پیر اعجاز حسین جلوی کی اعجاز سے پوسٹ کیا جا رہا ہے۔ جملہ حقوق محفوظ ہے۔

ایڈمن :۔ بکس فار بائے
اسلامک ، تصوف، تفسیر، فقہ ، تاریخ نیز ہر موضوع کی کتب کی رسائی اب آپ کی پہنچ میں آپ صرف کتاب کا نام ، مصنف کا نام، اپنا نام پتہ موبائل نمبر لکھ کرہمیں وٹس اپ یا ان باکس کریں۔ اور کیش آن ڈلیوری کتاب حاصل کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
92 0305 9265985

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

Loh e Mehfooz aur Rooh ki Haqiqat

لوح محفوظ * یہ امام مبین ہے۔ لوح محو ہے اور اثبات ہے۔ * یہ مقام

Wazu Nimaze Salook Ramooz e Tasawaf 03

زیر طبع کتاب : رموز تصوف مرتبہ صاحبزادہ محمد اعجاز حسین جلوی ابن پیر

Marfat Rabbani in urdu

First of all thanks for landing this article, if you are searching for Marfat