+(92)305 9265985 +(92) 0300 8040571
books4buy info@books4buy.com

Blog Post

نقش اول کتاب ہاں یہ بھٹو ہے پارٹ 2


محترم خواتین و حضرات ہم حاضر ہیں رائے ارشاد صاحب کی کتاب ہاں یہ بھٹو ہےمیں سے انتساب اس سے پہلے کچھ ابتدائیہ آپ پڑھ چکے ہیں۔ جانئے آگے۔۔۔
نامور فرانسیسی ادیب و صحافی آندرے مالرو نے جمال عبدالناصر کے بارے میں لکھا تھا کہ کامیابی ، ناکامی، فتح، شکست ہر چیز سے قطع نظر، تاریخ میں اسے ایک ایسے شخص کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جس کی ذات میں روح مصر نے خود کو پا لیا۔ یہ بات ناصر سے کہیں زیادہ بھٹو پر صادق آتی ہے۔ ہر قسم کی خوبیوں اور خامیوں کے باوصف ایک ایسی منفرد و متحرک شخصیت، جس میں نہ صرف پاکستان، عالم اسلام اور تیسری دنیا کی، بلکہ روح عصر مجسم تھی۔
ذوالفقار علی بھٹو، بلاشک و شبہ با صلاحیت انسان، غیور مسلمان، دور اندیش سیاست دان اور مدبر حکمران تھے۔ پاکستان میں قائداعظم کے بعد سب سے بڑے ، قابل اور مقبول رہنما! بونے قد کے لوگ ہمیشہ ان سے ڈرا اور گریزاں رہا کئے۔ احمق اور چھوٹے آدمیوں کی ایک خصلت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ذی شعور اور بلند قامت شخص سے دور بھاگتے ، عدم اعتماد ظاہر کرتے اور اس پر کیچڑ اچھالتے ہیں اور ایسے افراد کا دم بھرتے ہیں جو ان ہی کی طرح ہوں۔ کم نظر ، کوتاہ قد، جاہل اور ناہموار۔
بھٹو کو زندگی بھر اپنے بیبانہ کا نہ اقدامات کے باعث برابر جان کا کھٹکا لگا رہا، کیونکہ وہ قدرتی طور پر منافق دوستوں اور غضب ناک زخمی دشمنوں کی گہری سازشوں کا ہدف تھے۔ بھٹو کو جان کی تو پرواہ نہیں تھی لیکن والٹیئر کے انداز میں ہمیشہ خدشے میں گرفتار رہے کہ قابل قدر خدمات سرا نجام دینے سے پہلے ہی کہیں مر نہ جائوں۔ بس وہ اپنے خواب ، شرمندہ تعبیر دیکھنا چاہتے تھے۔ سازشی عناصر کو یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ بھٹو ہی کے منصوبہ ساز و سرگرم کا ر دماغ میں ان کی بربادی کے آئیڈیاز جنم لیتے ہیں۔ وہ جب پاکستان کی سطح سے بلند ہو کر عالمی سٹیج پر آئے تو اس کے ساتھ ہی ان کے بارے میں الزام تراشیوں ، فرضی قصے کہانیوں اور منفی بحث مباحثوں کا ایک طوفان بپا ہو گیا تھا۔ یہ از خود اور بے سبب نہیں ہوا۔ عالم سامراج نے انہیں قہر آسانی کی ایک خوفناک علامت کی صورت میں دیکھا ، اور ان کے دیکھنے کا زاویہ کچھ بے جا بھی نہیں تھا۔ اسے مہلت ملتی تو سامراجی نظام کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیتا۔ اس میں واقعی کمال اہلیت اور جرات موجود تھی۔ یہ اوصاف ہی تو اسے تختہ دار تک کھینچ لے گئے۔ جو کام غیر نہ کر سکتے تھے، اپنوں نے کیا۔
میں نے سو بار بھلانا چاہا، صحیفہ کائنات کے ایک قاری کا یاد گار خطبہ میں بھلا نہیں پا رہا : حقیقی قوم پرستوں ، دانشوروں اور مفکروں کو ہمیشہ اپنی ہی قوم کے ہاتھوں زہر کے پیالے پیتے دیکھا ہے۔ بھٹو حقیقی قوم پرست تھا۔ فکر و عمل میں انقلابی ، دانشور اور مفکر ، اپنی قوم کے ہاتھوں ہی مارا گیا۔ معروف مغربی مفکر، عشے، ‘برتر اور کمر انسان ‘ کے عنوان سے لکھتا ہے۔۔
” تم اچھی طرح جانتے ہو کہ بڑے لوگوں کےمخالف وہی ہوتے ہیں،جو خود چھوٹے ہوں۔ جن میں قوت اور جوش نہ ہو۔ برتر انسان ، عام لوگوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ بڑا ہونا ایک لحاظ سے جرم بھی ہے۔۔۔۔۔ اگر کبھی کوئی غیر معمولی انسان پیدا ہو جائے تو وہ موجودہ نظام عالم کو در ہم برہم کرکے اسے اپنے تصور کے مطابق بنانا چاہتا ہے۔”
ذوالفقار علی بھٹو!صدیوں کا بیٹا
واقعہ یہ ہے کہ بھٹو چھوٹے معاشرہ میں پیدا ہو جانے والا ایک بڑا انسان تھا۔صدیوں کا بیٹا! وہ سامراجی کاروبار کو اتھل پتھل کر دینے کی مکمل اہلیت و صلاحیت رکھتا تھا۔بہتر گہرا انسان۔ انسان ایک لا متناہی پچیدگی کا نمائندہ ہے، جس کے سر ے تک ہم صدیوں میں بھی نہیں پہنچ سکتے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کنہہ ہم نے بالکل نہیں پائی۔ وہ ایک مشکل آدمی تھے، ایسا کہ جس کا مطالعہ آسان نہ ہو۔ بادی النظر میں متضاد باتیں کہنے ، لیکن در حقیقت ایک نظام فکر رکھنے والا۔
کسی انسان کی صحیح مرقع کشی کے لئے سوانح نگار کو بیک وقت محقق، مورخ، مبصر، ماہر نفسیات اور ادیب ہونا چاہئے، کیونکہ انسان کے مطالعے کا بہترین ، دلچسپ اور فطری موضوع انسان ہی ہے اور حاصل مطالعہ یہ کہ انسان کی پچیدہ اور سیال فطرت ایک منفرد کردار، مختلف اور متضاد صفات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ نہ صرف ہمارے اندر ایک اصل شخصیت جلو ہ افروز ہوتی ہے، جسے سمجھنا انتہائی مشکل بلکہ ممتنع، اس لئے کہ مختلف نقاب بھی ہوتے ہیں۔ جو حسب ضرورت و موقع اوڑھ لئے جاتے ہیں۔
جناب ذوالفقار علی بھٹو نے فی الواقع متعدد نقاب اوڑھ رکھے تھے۔ اقرار و انکار کے مابین گاہ گاہ اظہار کے پردے فرار کی راہ چل پڑتے، کبھی کبھی چھپ رہنے کی چاہ میں اور کھل جاتے۔ بھٹو ایسے محقق مورخ، مبصر، مفکر، دانشور، صاحب نظر، ادیب، خطیب، فلسفی، عالم اور سیاست دان کے نقش حیات قلمبند کرنے کو تو دو گونہ خصوصیات چاہیئں۔ یہ سچ ہے کہ ابھی تک ان کو کوئی پختہ کار سوانح نگار میسر نہیں آیا۔ حقیقی بھٹو کے خدو خال ابھی تک جھوٹے پروپیگنڈہ کی گرد سے اٹے پڑے ہیں اور حقیقت بھٹو، بدنیتی بلکہ دشمنی سے اڑائے ہوئے غبار میں گم ! کوئی تو ہو جو سادہ لوح قوم کو صحیح تصویر دکھا دے!
ایک نوجوان فرانسیسی مصنف نے سوانح نگاری کی فرمائش پر کیا کہا تھا؟ یہی نا کہ مجھے ایک ایسا شخص دو جس نے اپنی زندگی کو راہ پر لگانا چاہا اور اسے دروازہ ہمیشہ بند ملا ہو۔ بھٹو، اپنی ذاتی زندگی کو پیچھے چھوڑ کر خود بہت آگے نکل گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے قومی زندگی کو ڈھنگ پر لانا چاہا، قریب تھا کہ وہ اپنے ساتھ اقوام مشرق کو بھی حالات کی تنگ گلی میں سے باہر نکال لے گئے ہوتے کہ پاک فوج کے ایک سپہ سالار نے ساری محنت ہی اکارت کر ڈالی۔ دنیا کا منظر نامہ تبدیل ہو نے والا تھا، مگر اس سے پہلے ہی تبدیلی کے روح رواں کو دشمنوں کی خواہش پر دوستوں نے قتل کر ڈالا۔

بھٹو پر ناہموار ریت کا الزام بڑی شد و مد سے عائد کیا جاتا رہا ہے۔ ناہمواری ؟ تاریخ کا مشاہدہ یہ ہے کہ بڑی بڑے انقلاب لانے والے لوگوں کی زندگی میں زیر و زبر کی کیفیت ضرور ہوتی ہے۔ شاید اس عمل سے فطرت ان کے لئے انقلاب کی تربیت اور محرکات مہیا کرتی ہو گی۔ تمام تاریخ ساز لوگ ناہموار زندگیوں سے گزرتے ہیں۔ انقلاب وہی لاتے ہیں جو انقلابی روح لے کر اس دنیا میں آتے ہیں، اور اس امر کا زیادہ تر تعلق ماں کی گود سے ہوتا ہے۔ بھٹو نےایک ماں کی کوکھ سے جنم لیا تھا کہ انقلاب از خود اس کی روح میں اتر آیا۔ بھٹو کے اندر ، میرے حاصل مطالعہ کی رو سے ،امکانات کی ایک کائنات آباد تھی، مگر بد قسمتی سے بے پناہ قابلیت رکھنے والے اس جرات مند انسان کو حالات ناموافق ملے اور رفقائے کار ، منافق! جو کچھ انہوں نے کیا، وہ ان کی صلاحیتوں کا حقیقی اظہار نہیں تھا۔ یقیناً وہ اس سے کہیں بہتر کر سکتے تھے، مگر مزید کچھ کرنے نہیں دیا گیا۔ یہ شخص صحیح معنوں میں قیامت تھا۔ زندگی کا حقیقی مزا،برنارڈ شانے خود نوشتانہ احساس کی اساس پر لکھا:
اس بات میں ہے کہ ایسے مقصد کے لئے گزاری جائے، جسے آپ اپنی نظر میں اعلیٰ سمجھتے ہوں۔ چھوٹی چھوٹی خود غرض تکلیفوں اور غموں کے بارے میں شکوہ و شکایت کرنے اور اس بات پر ناراض ہونے کی بجائے کہ دنیا نے مجھے خوش رکھنے کے لئے اپنے سارے کام کیوں نہیں چھوڑے، ہمیں چاہئے کہ ہم قدرت کی ایک طاقت بن جائیں۔میرا یہ خیال ہے کہ میری زندگی میرے گرد تمام مخلوق سے متعلق ہے، اور جب تک میں زندہ ہوں، میرے لئے یہ خوش قسمتی کی بات ہو گی۔ اس کے لئے میں وہ تمام کچھ کرتا رہوں گا،جو میرے اختیار میں ہے۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ جب میں مروں تو میں مکمل طور پر استعمال میں لایا جا چکا ہوں، کیونکہ جتنا محنت سے میں کام کروں گا، اتنا ہی زیادہ میں زندہ رہوں گا۔ میں زندگی کو اس کی اپنی خاطر بہت چاہتا ہوں۔ زندگی میرے لئے کوئی مختصر شمع نہیں ہے، بلکہ یہ میرے لئے ایک زبر دست قسم کی مشعل ہے، جسے مجھے کچھ عرصہ کے لئے تھا منے کا موقع ملا ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ اس عرصے میں یہ اس قدرروشن ہو جائے کہ جتنی یہ ہو سکتی ہے، اس سے پہلے کہ میں اسے اگلی نسلوں کو تھما دوں۔
بھٹو نے بھی یہی کچھ تو چاہا اور کہا۔ میں یہ نہیں دیکھنا چاہتا، چونکہ میں موت کی کوٹھڑی میں ہوں،اس لئے ساری دنیا موت کی کوٹھڑی میں ہو۔ اپنی سب سے پیاری بیٹی کے نام جیل سے ان کا ایک خط یادگار ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہائی کورٹ نے ساری دنیا کو موت کی سزا سنا دی ہے، اس لئے کہ اس نے مجھے موت کی سزا سنائی ہے۔ میں اپنے آپ کو سب سے زیادہ خوش قسمت انسان تصور کروں گا، اگر بنی نوع انسان کے تاریک موسم سرما میں دھوپ کی کرن پھوٹ پڑے اور رنگ برنگ کے پھول کھل جائیں۔ دنیا تو بہت خوبصورت شے ہے۔
میں ایک مسلمان ہوں! بھٹو نے لکھا: ایک مسلمان کی قسمت اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں میں ہے۔ میں صاف ضمیر کے ساتھ اس کے سامنے پیش ہو سکتا ہوں، اور اس سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی از سر نو تعمیر کی جب کہ وہ ایک راکھ کا ڈھیر تھا اور اسے ایک محترم قوم بنا دیا۔ کوٹ لکھپت کی اس کال کوٹھڑی میں میرا ضمیر پر سکون ہے۔ میں موت سے خوف زدہ نہیں ہوں۔ آپ نے دیکھا کہ میں کس کس آگ میں سے گزرا ہوں۔ بھٹو اپنے دعوئوں میں سچا تھا۔ وہ ملک ہی کے لئے زندہ رہےاور ملک کے لئے ہی انہوں نے ایک شہید کے طور پر جان دی۔
۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ دیکھئے پارٹ3 میں
یہ کتاب ابھی گھر بیٹھے کیش آن ڈلیوری حاصل کرنے کے لئے اپنا نام پتہ فون نمبر لکھ کر ہمیں ان باکس کریں یا دیئے گئے نمبر پر وٹس اپ کریں
03059265985
Han ye butto hai. is one of the best book in this series
Zulfiqar Ali bhutto books


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

ہاں یہ بھٹو ہے پارٹ ون رائے ارشاد کمال

ہاں یہ بھٹو ہے! اک متاعِ دل و جاں پا س تھی سو ہار چکے ہائے!